سورۃ النازعات (کھینچنے والے)

سورۃ النازعات قرآن مجید کا ۷۹واں باب ہے، جو مدینہ میں نازل ہوا۔ یہ ۴۶ آیات پر مشتمل ہے اور اس میں فرشتوں کے ذریعے روحوں کو کھینچنے کا منظر بیان کیا گیا ہے، قیامت کے دن کے بارے میں شک کرنے والوں کو خبردار کیا گیا ہے اور قیامت کے دن کی آمد کو یاد دلایا گیا ہے۔

سورۃ النازعات (کھینچنے والیاں)

اس نام سے بھی معروف ہے: الساهرة (زمین کی سطح), الطامة (بڑی آفت)

يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ ١٠ i

79:۱۰

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے (۱۰)

إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ١٦ i

79:۱۶

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا (۱۶)

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ١٩ i

79:۱۹

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو (۱۹)

فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ ٢٥ i

79:۲۵

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا (۲۵)

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَىٰ ٢٦ i

79:۲۶

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے (۲۶)

أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ٢٧ i

79:۲۷

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا (۲۷)

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ٤٠ i

79:۴۰

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا (۴۰)

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ٤٢ i

79:۴۲

(اے پیغمبر، لوگ )تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟ (۴۲)

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ٤٦ i

79:۴۶

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا( دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے (۴۶)