نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ
(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے (۴)
هَاوِيَةٌ جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ہاویہ کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں ہاویہ میں پہنچا۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب صفتہ النار میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین! پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ” ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح] مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح] اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی] طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح] ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ] بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657] اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536] الْحَمْدُ لِلَّـه سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔