سورۃ ہود (آیت 91)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




11 ہود(هود)، آیت ۹۱

قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ 91 ٩١

اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو (۹۱)

تفسیر
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین نے کہا کہ ” اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں۔‏“ سعید رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ ” آپ علیہ السلام کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ علیہ السلام بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔‏“

سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ” اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ علیہ السلام کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کے کنبے والے بھی آپ علیہ السلام کے دین پر نہ تھے۔‏“

کہتے ہیں کہ ” اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کر دیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔‏“ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ” بھائیو! تم مجھے میری قرابت داری کی وجہ سے چھوڑتے ہو۔ اللہ کی وجہ سے نہیں چھوڑتے تو کیا تمہارے نزدیک قبیلے والے اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں اللہ کے نبی کو برائی پہنچاتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں کرتے افسوس تم نے کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اس کی کوئی عظمت و اطاعت تم میں نہ رہی۔ خیر اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حال احوال جانتا ہے وہ تمہیں پورا بدلہ دے گا۔‏“

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔