نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں (۴۳)
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ
الاعراف ۷: ۱۵۶⧉ ۱۵۷⧉ یعنی ” میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں “۔اور آیت میں ہے کہ أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ الشعراء ۲۶:۱۹۷ ⧉ ” کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے “۔
ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم ﷺ یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ ﷺ سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے پاس تھے۔ یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: قریب آؤ جب قریب گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ الاخلاص ۱۱۲: ۱⧉ ۲⧉ ۳⧉ ۴⧉ آپ ﷺ نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین ﷺ کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے ۔ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] اس میں انقطاع ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔