نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو (۹۰)
حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1378]
اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ ﷺ کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔ دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لیے تیار ہوئے یہاں آکر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ ﷺ سے پوچھتا ہے کہ آپ ﷺ کون ہیں اور کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں ﷺ اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ ﷺ نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی۔پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ ﷺ کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔
اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس سے گزرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھتے نہیں ہو؟ وہ بیٹھ گیا، آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ دفعتہً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ ﷺ نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ ﷺ سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی، پھر آپ ﷺ نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ ﷺ کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ ﷺ ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہو سکا، پوچھا کہ آپ ﷺ کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے پوچھا تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا یہ کہ آپ ﷺ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ ﷺ سے کچھ کہہ رہا ہو، اور آپ ﷺ اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا ، اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا ۔ پوچھا پھر اس نے آپ ﷺ سے کیا کہا؟ آپ ﷺ نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور نبی کریم ﷺ کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا ۔ [مسند احمد:318/1:ضعیف] ایک اور روایت میں عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ ﷺ نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں ۔ [مسند احمد:218/4:ضعیف] یہ روایت بھی صحیح ہے وَاللهُ اَعْلَمُ ۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔