سورۃ النحل (شہد کی مکھی) (آیت 97)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




16 النحل(النحل)، آیت ۹۷

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 97 ٩٧

جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے (۹۷)

تفسیر
کتاب و سنت کے فرماں بردار اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ اپنے ان بندوں سے جو اپنے دل میں اللہ پر اس کے رسول پر ایمان کامل رکھیں اور کتاب و سنت کی تابعداری کے ماتحت نیک اعمال کریں، وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں دنیا میں بھی بہترین اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا۔ عمدگی سے ان کی عمر بسر ہوگی، خواہ وہ مرد ہوں، خواہ عورتیں ہوں، ساتھ ہی انہیں اپنے پاس دار آخرت میں بھی ان کی نیک اعمالیوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ دنیا میں پاک اور حلال روزی، قناعت، خوش نفسی، سعادت، پاکیزگی، عبادت کا لطف، اطاعت کا مزہ، دل کی ٹھنڈک، سینے کی کشادگی، سب ہی کچھ اللہ کی طرف سے ایماندار نیک عامل کو عطا ہوتی ہے۔

چنانچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں اس نے فلاح حاصل کرلی جو مسلمان ہوگیا اور برابر سرابر روزی دیا گیا اور جو ملا اس پر قناعت نصیب ہوئی ۔ [صحیح مسلم:1054] ‏

اور حدیث میں ہے جسے اسلام کی راہ دکھا دی گئی اور جسے پیٹ پالنے کا ٹکڑا میسر ہوگیا اور اللہ نے اس کے دل کو قناعت سے بھر دیا، اس نے نجات پا لی ۔ [سنن ترمذي:2349، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان کی نیکی کا بدلہ دنیا میں عطا فرماتا ہے اور آخرت کی نیکیاں بھی انہیں دیتا ہے، ہاں کافر اپنی نیکیاں دنیا میں ہی کھا لیتا ہے آخرت کے لیے اس کے ہاتھ میں کوئی نیکی باقی نہیں رہتی ۔ [صحیح مسلم:2808] ‏

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔