سورۃ الاسراء (رات کا سفر) (آیت 68)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




17 الاسراء(الإسراء)، آیت ۶۸

أَفَأَمِنْتُمْ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا 68 ٦٨

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ (۶۸)

تفسیر
اظہار قدرت و اختیار رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے؟ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ ہود ۱۱:۸۲ ‏ ” وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کر سکتا ہے “

جیسے لوطیوں پر ہوئی تھی، جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورۂ تبارک میں فرمایا کہ ‏أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ * أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ الملک ۶۷: ۱۶ ۱۷ ‏ ” کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ “

کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے؟ پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے، نہ دستگیر، نہ وکیل، نہ کار ساز، نہ نگہبان، نہ پاسبان۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔