نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
الم
الم (۱)
ترمذی۔ نسائی اور ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر ایک جگہ بھیجا اور اس کی سرداری آپ نے انہیں دی جنہوں نے فرمایا تھا کہ مجھے سورۃ البقرہ⧉ یاد ہے، اس وقت ایک شریف شخص نے کہا میں بھی اسے یاد کر لیتا لیکن ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس پر عمل نہ کر سکوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ” قرآن سیکھو، قرآن پڑھو جو شخص اسے سیکھتا ہے، پڑھتا ہے پھر اس پر عمل بھی کرتا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے مشک بھرا ہوا برتن جس کی خوشبو ہر طرف مہک رہی ہے۔ اسے سیکھ کر سو جانے والے کی مثال اس برتن کی سی ہے جس میں مشک تو بھرا ہوا ہے لیکن اوپر سے منہ بند کر دیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي:2876،قال الشيخ الألباني:ضعیف] [امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن کہتے ہیں اور مرسل روایت بھی ہے]۔ واللہ اعلم
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رات کو سورۃ البقرہ⧉ کی تلاوت شروع کی، ان کا گھوڑا جو ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا، اس نے اچھلنا کودنا اور بدکنا شروع کیا۔ آپ نے قرأت چھوڑ دی گھوڑا بھی سیدھا ہو گیا۔ آپ نے پھر پڑھنا شروع کیا۔ گھوڑے نے بھی پھر بدکنا شروع کیا۔ آپ نے پھر پڑھنا موقوف کیا۔ گھوڑا بھی ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔ تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا چونکہ ان کے صاحبزادے یحییٰ گھوڑے کے پاس ہی لیٹے ہوئے تھے اس لئے ڈر معلوم ہوا کہ کہیں بچے کو چوٹ نہ آ جائے، قرآن کا پڑھنا بند کر کے اسے اٹھا لیا۔ آسمان کی طرف دیکھا کہ جانور کے بدکنے کی کیا وجہ ہے؟ صبح نبی ﷺ کی خدمت میں آ کر واقعہ بیان کرنے لگے آپ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے ہیں پھر ” اسید پڑھے چلے جاؤ“، سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! تیسری مرتبہ کے بعد تو یحییٰ کی وجہ سے میں نے پڑھنا بالکل بند کر دیا۔ اب جو نگاہ اٹھی تو دیکھتا ہوں کہ ایک نورانی چیز سایہ دار ابر کی طرح ہے اور اس میں چراغوں کی طرح کی روشنی ہے بس میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ اوپر کو اٹھ گئی۔ آپ نے فرمایا ” جانتے ہو یہ کیا چیز تھی؟“، یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کو سن کر قریب آ گئے تھے اگر تم پڑھنا موقوف نہ کرتے تو وہ صبح تک یونہی رہتے اور ہر شخص انہیں دیکھ لیتا، کسی سے نہ چھپتے۔ [صحیح بخاری:5018] یہ حدیث کئی کتابوں میں کئی سندوں کے ساتھ موجود ہے۔ واللہ اعلماس کے قریب قریب واقعہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ گزشتہ رات ہم نے دیکھا، ساری رات ثابت رضی اللہ عنہ کا گھر نور کا بقعہ بنا رہا اور چمکدار روشن چراغوں سے جگمگاتا رہا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ” شاید انہوں نے رات کو سورۃ البقرہ⧉ پڑھی ہو گی۔“ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ” سچ ہے رات کو میں سورۃ البقرہ⧉ کی تلاوت میں مشغول تھا۔“ [ابو عبیدہ فی فضائل القرآن:34/12:ضعیف] اس کی اسناد تو بہت عمدہ ہے مگر اس میں ابہام ہے اور یہ مرسل بھی ہے۔ واللہ اعلم
سورۃ البقرہ⧉ اور سورۃ آل عمران⧉ کے فضائل:نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” سورۃ البقرہ⧉ سیکھو، اس کو حاصل کرنا برکت ہے اور اس کا چھوڑنا حسرت ہے۔ جادوگر اس کی طاقت نہیں رکھتے“ پھر کچھ دیر چپ رہنے کے بعد فرمایا: ” سورۃ البقرہ⧉ اور سورۃ آل عمران⧉ سیکھو، یہ دونوں نورانی سورتیں ہیں اپنے پڑھنے والے پر سائبان یا بادل یا پرندوں کے جھنڈ کی طرح قیامت کے روز سایہ کریں گی، قرآن پڑھنے والا جب قبر سے اٹھے گا تو دیکھے گا کہ ایک نوجوان نورانی چہرے والا شخص اس کے پاس کھڑا ہوا کہتا ہے کہ کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ یہ کہے گا نہیں، تو وہ جواب دے گا کہ میں قرآن ہوں جس نے دن کو تجھے بھوکا پیاسا رکھا تھا اور راتوں کو بستر سے دور بیدار رکھا تھا۔ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے لیکن آج سب تجارتیں تیرے پیچھے ہیں“ اب اس کے رہنے کے لئے سلطنت اس کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی اور ہمیشہ کے فائدے اس کے بائیں ہاتھ میں، اس کے سر پر وقار و عزت کا تاج رکھا جائے گا، اس کے ماں باپ کو دو ایسے عمدہ قیمتی حلے پہنائے جائیں گے کہ ساری دنیا بھی اس کی قیمت کے سامنے ہیچ ہو گی، وہ حیران ہو کر کہیں گے کہ آخر اس رحم و کرم اور اس انعام و اکرام کی کیا وجہ ہے؟ تو انہیں جواب دیا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے تم پر یہ نعمت انعام کی گئی۔ پھر اسے کہا جائے گا پڑھتا جا اور جنت کے درجے چڑھتا جا، چنانچہ وہ پڑھتا جائے گا اور درجے چڑھتا جائے گا، خواہ ترتیل سے پڑھے یا بےترتیل۔ [مسند احمد:348/5:ضعیف] ابن ماجہ میں بھی اس حدیث کا بعض حصہ مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه:3781،قال الشيخ الألباني:ضعیف یحتمل التحسین] اس کی اسناد حسن اور شرط مسلم پر ہیں۔ اس کے راوی بشر بن مہاجر سے امام مسلم رحمہ اللہ بھی روایت لیتے ہیں اور امام ابن معین رحمہ اللہ اسے ثقہ کہتے ہیں۔ نسائی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں امام احمد رحمہ اللہ اسے منکر الحدیث بتاتے ہیں اور فرماتے ہیں میں نے تلاش کی تو دیکھا کہ وہ عجب عجب حدیثیں لاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی بعض احادیث سے اختلاف کیا جاتا ہے۔ ابوحاتم رازی کا فیصلہ ہے کہ اس کی حدیثیں لکھی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی۔ ابن عدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی ایسی روایتیں بھی ہیں جن کی متابعت نہیں کی جاتی۔ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قوی نہیں ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی اس روایت کے بعض مضمون دوسری سندوں سے بھی آئے ہیں۔ مسند احمد میں ہے۔ قرآن پڑھا کرو یہ اپنے پڑھنے والوں کی قیامت کے دن شفاعت کرے گا۔ دو نورانی سورتوں البقرہ اور آل عمران کو پڑھتے رہا کرو۔ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی کہ گویا یہ دو سائبان ہیں یا دو ابر ہیں یا پر کھولے پرندوں کی دو جماعتیں ہیں۔ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گی۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ” سورہ البقرہ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے اور چھوڑنا حسرت ہے، اس کی طاقت باطل والوں کو نہیں“ [صحیح مسلم:804] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے ” قرآن اور قرآن پڑھنے والوں کو قیامت کے دن بلوایا جائے گا۔ آگے آگے سورۃ البقرہ⧉ اور سورۃ آل عمران⧉ ہوں گی، بادل کی طرح یا سائے اور سائبان کی طرح یا پر کھولے پرندوں کے جھرمٹ کی طرح۔ یہ دونوں پروردگار سے ڈٹ کر سفارش کریں گی۔“ [صحیح مسلم:805] مسلم اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ ایک شخص نے اپنی نماز میں سورۃ البقرہ⧉ اور سورۃ آل عمران⧉ پڑھی اس کے فارغ ہونے کے بعد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان میں اللہ کا وہ نام ہے کہ اس نام کے ساتھ جب کبھی اسے پکارا جائے وہ قبول فرماتا ہے۔ اب اس شخص نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ مجھے بتائیے وہ نام کون سا ہے؟ سیدنا کعب نے اس سے انکار کیا اور فرمایا اگر میں بتا دوں تو خوف ہے کہ کہیں تو اس نام کی برکت سے ایسی دعا نہ مانگ لے جو میری اور تیری ہلاکت کا سبب بن جائے۔ سیدنا ابوامامہ فرماتے ہیں تمہارے بھائی کو خواب میں دکھلایا گیا کہ گویا لوگ ایک بلند و بالا پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں۔ پہاڑ کی چوٹی پر دو سرسبز درخت ہیں اور ان میں سے آوازیں آ رہی ہیں کہ کیا تم میں کوئی سورۃ البقرہ⧉ کا پڑھنے والا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی سورۃ آل عمران⧉ کا پڑھنے والا ہے؟ جب کوئی کہتا ہے کہ ” ہاں“ تو وہ دونوں درخت اپنے پھلوں سمیت اس کی طرف جھک جاتے ہیں اور یہ اس کی شاخوں پر بیٹھ جاتا ہے اور وہ اسے اوپر اٹھا لیتے ہیں۔ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ایک قرآن پڑھے ہوئے شخص نے اپنے پڑوسی کو مار ڈالا پھر قصاص میں وہ بھی مارا گیا۔ پس قرآن کریم ایک ایک سورت ہو ہو کر الگ ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ اس کے پاس سورۃ آل عمران⧉ اور سورۃ البقرہ⧉ رہ گئیں۔ ایک جمعہ کے بعد سورۃ آل عمران⧉ چلی گئی پھر ایک جمعہ گزرا تو آواز آئی کہ میری باتیں نہیں بدلا کرتیں اور میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ق ۵۰:۲۹ ⧉ چنانچہ یہ مبارک سورت یعنی سورۃ البقرہ⧉ بھی اس سے الگ ہو گئی مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں اس کی طرف سے بلاؤں اور عذاب کی آڑ بنی رہیں اور اس کی قبر میں اس کی دلجوئی کرتی رہیں اور سب سے آخر اس کے گناہوں کی زیادتی کے سبب ان کی سفارش نہ چلی۔ یزید بن اسود جرشی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کو دن میں پڑھنے والا دن بھر میں نفاق سے بری رہتا ہے اور رات کو پڑھنے والا ساری رات نفاق سے بری رہتا ہے خود یزید رحمہ اللہ اپنے معمولی وظیفہ قرآن کے علاوہ ان دونوں سورتوں کو صبح شام پڑھا کرتے تھے۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص ان دونوں سورتوں کو رات بھر پڑھتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ فرماں برداروں میں شمار ہو گا۔ اس کی سند منقطع ہے۔ صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھا۔ [صحیح مسلم:772]
سات لمبی سورتوں کی فضیلت:رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھ کو سات لمبی سورتیں تورات کی جگہ دی گئی ہیں اور انجیل کی جگہ مجھ کو دو سو آیتوں والی سورتیں ملی ہیں۔ اور زبور کے قائم مقام مجھ کو دو سو سے کم آیتوں والی سورتیں دی گئی ہیں اور پھر مجھے فضیلت میں خصوصاً سورۃ ق⧉ سے لے کر آخر تک کی سورتیں ملی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی سعید بن ابوبشیر کے بارہ میں کچھ کلام ہے۔ ابوعبید نے اسے دوسری سند سے بھی نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم ایک اور حدیث میں ہے جو شخص ان سات سورتوں کو حاصل کر لے وہ بہت بڑا عالم ہے یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے۔ [مسند احمد:72/6:حسن] ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور ان کا امیر انہیں بنایا، جنہیں سورۃ البقرہ⧉ یاد تھی حالانکہ وہ ان سب میں چھوٹی عمر کے تھے۔ [سنن ترمذي:2876،قال الشيخ الألباني:حسن] سیدنا سعید بن جبیر تو ولقد اتیناک سبعا من المثانی کی تفسیر میں بھی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہی سات سورتیں ہیں۔ سورۃ البقرہ⧉ ، سورۃ آل عمران⧉ ، سورۃ نساء⧉ ، سورۃ مائدہ⧉ ، سورۃ انعام⧉ ، سورۃ اعراف⧉ اور سورۃ یونس⧉۔ مجاہد، مکحول، عطیہ بن قیس، ابو محمد فارسی، شداد بن اوس، یحییٰ بن حارث ذماری رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی منقول ہے۔
مقام نزول سورۃ البقرہ⧉ ساری کی ساری مدینہ شریف میں نازل ہوئی ہے اور شروع شروع جو سورتیں نازل ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے البتہ اس کی ایک آیت وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ البقرہ ۲:۲۸۱ ⧉ یہ سب سے آخر نازل شدہ بتائی جاتی ہے یعنی قرآن کریم میں سب سے آخر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ نازل بعد میں ہوئی ہو لیکن اسی میں ہے۔ اور اسی طرح سود کی حرمت کی آیتیں بھی آخر میں نازل ہوئی ہیں۔ خالد بن معدان سورہ البقرہ کو فسطاط القرآن یعنی قرآن کا خیمہ کہا کرتے تھے۔ بعض علماء کا فرمان ہے کہ اس میں ایک ہزار خبریں ہیں اور ایک ہزار حکم ہیں اور ایک ہزار کاموں سے ممانعت ہے۔ اس کی آیتیں دو سو ستاسی ہیں۔ اس کے کلمات چھ ہزار دو سو اکیس ہیں۔ اس کے حروف ساڑھے پچیس ہزار ہیں۔ واللہ اعلم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ سورت مدنی ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:47/1] عبداللہ بن زبیر اور خارجہ بن ثابت رضی اللہ عنہما اور بہت سے آئمہ علماء اور مفسرین سے بھی بلا اختلاف یہی مروی ہے۔ ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے کہ سورۃ البقرہ⧉ ، سورۃ آل عمران⧉ ، سورۃ النساء⧉ وغیرہ نہ کہا کرو بلکہ یوں کہو کہ وہ سورت جس میں البقرہ کا ذکر ہے۔ وہ سورت جس میں آل عمران کا بیان ہے اور اسی طرح قرآن کی سب سورتوں کے نام لیا کرو۔ [بیهقی فی شعب الایمان:2582:باطل و منکر] لیکن یہ حدیث غریب ہے بلکہ اس کا فرمان رسول ﷺ ہونا ہی صحیح نہیں۔ اس کے راوی عیسیٰ بن میمون ابوسلمہ خواص ضعیف ہیں۔ ان کی روایت سے سند نہیں لی جا سکتی۔ اس کے برخلاف بخاری و مسلم میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بطن وادی سے شیطان پر کنکر پھینکے۔ بیت اللہ ان کی بائیں جانب تھا اور منیٰ دائیں طرف۔ اور فرمایا اسی جگہ سے کنکر پھینکے تھے رسول اللہ ﷺ نے جن پر سورۃ البقرہ⧉ اتری ہے۔ [صحیح بخاری:1747] گو اس حدیث سے صاف ثابت ہو گیا ہے کہ سورۃ البقرہ⧉ وغیرہ کہنا جائز ہے لیکن مزید سنئے۔ابن مردویہ میں ہے کہ جب نبی ﷺ نے اپنے اصحاب میں کچھ سستی دیکھی تو انہیں يا اصحاب سورة بقره کہہ کر پکارا۔ غالباً یہ غزوہ حنین والے دن کا ذکر ہے جب لشکر کے قدم اکھڑ گئے تھے تو نبی ﷺ کے حکم سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں درخت والو، یعنی اے بیعت الرضوان کرنے والو اور اے سورۃ البقرہ⧉ والو [طبرانی کبیر:133/17:ضعیف] کہہ کر پکارا تھا تاکہ ان میں خوشی اور دلیری پیدا ہو۔ چنانچہ اس آواز کے ساتھ ہی صحابہ ہر طرف سے دوڑ پڑے۔ مسیلمہ جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، اس کے ساتھ لڑنے کے وقت بھی جب قبیلہ بنوحنفیہ کی چیرہ دستیوں نے پریشان کر دیا اور قدم ڈگمگا گئے تو صحابہ نے اسی طرح لوگوں کو پکارا يا اصحاب سورة البقره اے سورۃ البقرہ⧉ والو! اس آواز پر سب کے سب جمع ہو گئے اور جم کر لڑے یہاں تک کہ ان مرتدوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کے سب صحابہ سے خوش ہو۔
حروف مقطعات اور ان کے معنی الم جیسے حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آئے ہیں۔ ان کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض تو کہتے ہیں ان کے معنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور کسی کو معلوم نہیں۔ اس لیے وہ ان حروف کی کوئی تفسیر نہیں کرتے۔ قرطبی رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی نقل کیا ہے۔ عامر، شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خیثم رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں ابوحاتم بن حبان رحمہ اللہ کو بھی اسی سے اتفاق ہے۔ بعض لوگ ان حروف کی تفسیر بھی کرتے ہیں لیکن ان کی تفسیر میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر زمحشری رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں اکثر لوگوں کا اسی پر اتفاق ہے۔ سیبویہ نے بھی یہی کہا ہے اور اس کی دلیل بخاری و مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن صبح کی نماز میں الم السجدة اور هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَان پڑھتے تھے ۔ [صحیح بخاری:891] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں الم اور حم اور المص اور ص یہ سب سورتوں کی ابتداء ہے جن سے یہ سورتیں شروع ہوتی ہیں۔ انہی سے یہ بھی منقول ہے کہ الم قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قتادہ اور زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے اور شاید اس قول کا مطلب بھی وہی ہے جو عبدالرحمٰن بن زید اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سورتوں کے نام ہیں اس لیے کہ ہر سورت کو قرآن کہہ سکتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے قرآن کا نام المص ہو کیونکہ جب کوئی شخص کہے کہ میں نے سورۃ المص پڑھی تو ظاہر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس نے سورۃ الاعراف⧉ پڑھی نہ کہ پورا قرآن۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ شعبی، سالم بن عبداللہ، اسماعیل بن عبدالرحمٰن، سدی کبیر رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ الم اللہ تعالیٰ کا بڑا نام ہے۔ اور روایت میں ہے کہ حم ، طس اور الم یہ سب اللہ تعالیٰ کے بڑے نام ہیں۔ سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں سے یہ مروی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قسم ہے اور اس کا نام بھی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قسم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کے معنی أَنَا اللَّهُ أَعْلَمُ ہیں یعنی ”میں ہی ہوں اللہ زیادہ جاننے والا“۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے الگ الگ حروف ہیں۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تین حرف الف اور لام اور میم انتیس حرفوں میں سے ہیں جو تمام زبانوں میں آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ہر حرف اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی بلا کا ہے اور اس میں قوموں کی مدت اور ان کے وقت کا بیان ہے۔عیسیٰ علیہ السلام کے تعجب کرنے پر کہا گیا تھا کہ وہ لوگ کیسے کفر کریں گے ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ اس کی روزیوں پر وہ پلتے ہیں۔ الف سے اللہ کا نام، الله شروع ہوتا ہے اور لام سے اس کا نام لطیف شروع ہوتا ہے اور میم سے اس کا نام مجید شروع ہوتا ہے اور الف سے مراد آلَاء یعنی نعمتیں ہیں اور لام سے مراد اللہ تعالیٰ کا لُطْف ہے اور میم سے مراد اللہ تعالیٰ کا مَجْد یعنی بزرگی ہے۔ الف سے مراد ایک سال ہے لام سے تیس سال اور میم سے چالیس سال۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:28/1]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان سب مختلف اقوال میں تطبیق دی ہے یعنی ثابت کیا ہے کہ ان میں ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ ہو سکتا ہے یہ سورتوں کے نام بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نام بھی، سورتوں کے شروع کے الفاظ بھی ہوں اور ان میں سے ہر ہر حرف سے اللہ تعالیٰ کے ایک ایک نام کی طرف اشارہ بھی، اور اس کی صفتوں کی طرف اور مدت وغیرہ کی طرف بھی ہو۔ ایک ایک لفظ کئی کئی معنی میں آتا ہے۔ جیسے لفظ أُمَّةٍ کہ اس کے ایک معنی ہیں دِّينُ جیسے قرآن میں ہے: إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ الزخرف ۴۳:۲۲ ⧉ الخ یعنی ”ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی دین پر پایا“۔ دوسرے معنی ہیں، اللہ کا اطاعت گزار بندہ، جیسے فرمایا: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ النحل ۱۶:۱۲۰ ⧉ یعنی ”ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار اور مخلص بندے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے“۔ تیسرے معنی ہیں الْجَمَاعَةُ ، جیسے فرمایا: وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ القصص ۲۸:۲۳ ⧉ الخ یعنی ”ایک جماعت کو اس کنویں پر پانی پلاتے ہوئے پایا“۔ اور جگہ ہے: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا النحل ۱۶:۳۶ ⧉ الخ یعنی ”ہم نے ہر جماعت میں کوئی رسول یقیناً بھیجا“۔ چوتھے معنی ہیں مدت اور زمانہ۔ فرمان ہے: وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ یوسف ۱۲:۴۵ ⧉ یعنی ”ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا“۔ پس جس طرح یہاں ایک لفظ کے کئی معنی ہوئے اسی طرح ممکن ہے کہ ان حروف مقطعہ کے بھی کئی معنی ہوں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کے اس فرمان پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے جو تفسیر کی ہے اس کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ ایک لفظ، ایک ساتھ، ایک ہی جگہ ان سب معنی میں ہے اور لفظ امت وغیرہ جو کئی کئی معنی میں آتے ہیں جنہیں اصطلاح میں الفاظ مشترکہ کہتے ہیں۔ ان کے معنی ہر جگہ جدا جدا تو ضرور ہوتے ہیں، لیکن ہر جگہ ایک ہی معنی ہوتے ہیں جو عبارت کے قرینے سے معلوم ہو جاتے ہیں ایک ہی جگہ سب کے سب معنی مراد نہیں ہوتے اور سب کو ایک ہی جگہ محمول کرنے کے مسئلہ میں علماء اصول کا بڑا اختلاف ہے اور ہمارے تفسیری موضوع سے اس کا بیان خارج ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُدوسرے یہ کہ امت وغیرہ الفاظ کے معنی بہت سارے ہیں اور یہ الفاظ اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ بندش کلام اور نشست الفاظ سے ایک معنی ٹھیک بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک حرف کی دلالت ایک ایسے نام پر ممکن ہے جو دوسرے ایسے نام پر بھی دلالت کرتا ہو اور ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت نہ ہو نہ تو مقدر ماننے سے، نہ ضمیر دینے سے، نہ وضع کے اعتبار سے اور نہ کسی اور اعتبار سے ایسی بات علمی طور پر تو نہیں سمجھی جا سکتی البتہ اگر منقول ہو تو اور بات ہے لیکن یہاں اختلاف ہے اجماع نہیں ہے اس لیے یہ فیصلہ قابل غور ہے۔ اب بعض اشعار عرب کے جو اس بات کی دلیل میں پیش کئے جاتے ہیں ایک کلمہ کو بیان کرنے کے لیے صرف اس کا پہلا حرف بول دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے لیکن ان شعروں میں خود عبارت ایسی ہوتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ ایک حرف کے بولتے ہی پورا کلمہ سمجھ میں آ جاتا ہے لیکن یہاں ایسا بھی نہیں۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کے قتل پر آدھے کلمہ سے بھی مدد کرے[سنن ابن ماجہ:2620، قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] مطلب یہ ہے کہ اقْتُلْ پورا نہ کہے بلکہ صرف إِقْ کہے مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سورتوں کے شروع میں جو حروف ہیں مثلاً ق ، ص ، حم ، طسم الر وغیرہ یہ سب حروف هِجَا ہیں۔ بعض عربی دان کہتے ہیں کہ یہ حروف الگ الگ جو اٹھائیس ہیں ان میں سے چند ذکر کر کے باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے جیسے کوئی کہے کہ میرا بیٹا ا ب ت ث لکھتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ تمام اٹھائیس حروف لکھتا ہے لیکن ابتداء کے چند حروف ذکر کر دئیے اور باقی کو چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:208/1] سورتوں کے شروع میں اس طرح کے کل چودہ حروف آئے ہیں ا ل م ص ر ك ہ ي ع ط س ح ق ن ان سب کو اگر ملا لیا جائے تو یہ عبارت بنتی ہے۔ نَصٌّ حَكِيمٌ قَاطِعٌ لَهُ سِرٌّ تعداد کے لحاظ سے یہ حروف چودہ ہیں اور جملہ حروف اٹھائیس ہیں اس لیے یہ پورے آدھے ہوئے بقیہ جن حروف کا ذکر نہیں کیا گیا ان کے مقابلہ میں یہ حروف ان سے زیادہ فضیلت والے ہیں اور یہ صناعت تصریف ہے ایک حکمت اس میں یہ بھی ہے کہ جتنی قسم کے حروف تھے اتنی قسمیں باعتبار اکثریت کے ان میں آ گئیں یعنی مہموسہ مجہورہ وغیرہ۔ سبحان اللہ ہر چیز میں اس مالک کی حکمت نظر آتی ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کا کلام لغو، بے ہودہ، بےکار، بےمعنی الفاظ سے پاک ہے جو جاہل لوگ کہتے ہیں کہ سرے سے ان حروف کے کچھ معنی ہی نہیں وہ بالکل خطا پر ہیں۔ اس کے کچھ نہ کچھ معنی یقیناً ہیں۔ اگر نبی معصوم ﷺ سے اس کے معنی کچھ ثابت ہوں، تو ہم وہ معنی کریں گے اور سمجھیں گے ورنہ جہاں کہیں نبی کریم ﷺ نے کچھ معنی بیان نہیں کئے ہم بھی نہ کریں گے اور ایمان لائیں گے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم ﷺ سے تو اس بارہ میں ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اور علماء کا بھی اس میں بےحد اختلاف ہے۔ اگر کسی پر کسی قول کی دلیل کھل جائے تو خیر وہ اسے مان لے ورنہ بہتر یہ ہے کہ ان حروف کے کلام اللہ ہونے پر ایمان لائے اور یہ جانے کہ اس کے معنی ضرور ہیں جو اللہ ہی کو معلوم ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہوئے۔دوسری حکمت ان حروف کے لانے میں یہ بھی ہے کہ ان سے سورتوں کی ابتداء معلوم ہو جائے لیکن یہ وجہ ضعیف ہے اس لیے کہ اس کے بغیر ہی سورتوں کی جدائی معلوم ہو جاتی ہے جن سورتوں میں ایسے حروف ہی نہیں کیا ان کی ابتداء انتہا معلوم نہیں؟
پھر سورتوں سے پہلے بِسْمِ اللَّـهِ الخ کا پڑھنے اور لکھنے کے اعتبار سے موجود ہونا کیا ایک سورت کو دوسری سے جدا نہیں کرتا؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی حکمت یہ بھی بیان کی ہے کہ چونکہ مشرکین کتاب اللہ کو سنتے ہی نہ تھے اس لیے انہیں سنانے کے لیے ایسے حروف لائے گئے تاکہ جب ان کا دھیان کان لگ جائے تو باقاعدہ تلاوت شروع ہو لیکن یہ وجہ بھی بودی ہے اس لیے اگر ایسا ہوتا تو تمام سورتوں کی ابتداء انہی حروف سے کی جاتی حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اکثر سورتیں اس سے خالی ہیں پھر جب کبھی مشرکین سے کلام شروع ہو یہی حروف چاہئیں۔ نہ کہ صرف سورتوں کے شروع میں ہی یہ حروف ہوں۔پھر اس پر بھی غور کر لیجئے کہ یہ سورت یعنی سورۃ الالبقرہ⧉ اور اس کے بعد کی سورت یعنی سورۃ آل عمران⧉ یہ تو مدینہ شریف میں نازل ہوتی ہیں اور مشرکین مکہ ان کے اترنے کے وقت وہاں تھے ہی نہیں پھر ان میں یہ حروف کیوں آئے؟ ہاں یہاں پر ایک اور حکمت بھی بیان کی گئی ہے کہ ان حروف کے لانے میں قرآن کریم کا ایک معجزہ ہے جس سے تمام مخلوق عاجز ہے۔ باوجود یہ کہ یہ حروف بھی روزمرہ کے استعمالی حروف سے ترکیب دئیے گئے ہیں لیکن مخلوق کے کلام سے بالکل نرالے ہیں۔ مبرد رحمہ اللہ اور محققین کی ایک جماعت اور فراء رحمہ اللہ اور قطرب رحمہ اللہ سے بھی یہی منقول ہے، زمخشری رحمہ اللہ نے تفسیر کشاف میں اس قول کو نقل کر کے اس کی بہت کچھ تائید کی ہے۔ شیخ امام علامہ ابوالعباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور حافظ مجتہد ابوالحاج مزی رحمہ اللہ نے بھی یہی حکمت بیان کی ہے۔ زمحشری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام حروف اکٹھے نہیں آئے۔
ہاں ان حروف کو مکرر لانے کی یہ وجہ ہے کہ باربار مشرکین کو عاجز اور لاجواب کیا جائے اور انہیں ڈانٹا اور دھمکایا جائے جس طرح قرآن کریم میں اکثر قصے کئی کئی مرتبہ لائے گئے ہیں اور باربار کھلے الفاظ میں بھی قرآن کے مثل لانے میں ان کی عاجزی کا بیان کیا گیا ہے۔ بعض جگہ تو صرف ایک حرف آیا ہے جیسے ص ن ق کہیں دو حروف آئے ہیں جیسے حم کہیں تین حروف آئے ہیں جیسے الم کہیں چار آئے ہیں جیسے المر اور المص اور کہیں پانچ آئے ہیں جیسے کھیعص اور حم عسق اس لیے کہ کلمات عرب کے کل کے کل اسی طرح پر ہیں یا تو ان میں ایک حرفی لفظ ہیں یا دو حرفی یا سہ حرفی یا چار حرفی یا پانچ حرفی کے پانچ حرف سے زیادہ کے کلمات نہیں۔جب یہ بات ہے کہ یہ حروف قرآن شریف میں بطور معجزے کے آئے ہیں تو ضروری تھا کہ جن سورتوں کے شروع میں یہ حروف آئے ہیں وہاں ذکر بھی قرآن کریم کا ہو اور قرآن کی بزرگی اور بڑائی بیان ہو چنانچہ ایسا ہی انتیس سورتوں میں یہ واقع ہوا ہے۔
سنیے فرمان ہے: الم * ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ البقرہ ۲: ۱⧉ ۲⧉ یہاں بھی ان حروف کے بعد ذکر ہے کہ اس قرآن کے اللہ جل شانہ کا کلام ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور جگہ فرمایا: الم اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ * نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ آلِ عمران ۳: ۱⧉ ۲⧉ ۳⧉ یعنی ”وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور دائم و قائم ہے جس نے تم پر حق کے ساتھ یہ کتاب تھوڑی تھوڑی نازل فرمائی ہے جو پہلے کی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے“ یہاں بھی ان حروف کے بعد قرآن کریم کی عظمت کا اظہار کیا گیا۔ اور جگہ فرمایا: المص * كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ لِتُنْذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ الاعراف ۷: ۱⧉ ۲⧉ یعنی ”یہ کتاب تیری طرف اتاری گئی ہے تو اپنا دل تنگ نہ رکھ “۔اور جگہ فرمایا: الر كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ابراہیم ۱۴:۱ ⧉ یعنی ” یہ کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی تاکہ تو لوگوں کو اپنے رب کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لائے، زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی طرف “۔
ارشاد ہوتا ہے: الم * تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ السجدہ ۳۲: ۱⧉ ۲⧉ یعنی ”اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں“۔ فرماتا ہے: حم * تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ فصلت ۴۱: ۱⧉ ۲⧉ ”بخششوں اور مہربانیوں والے اللہ نے اسے نازل فرمایا ہے“۔ فرمایا: حم * عسق * كَذَٰلِكَ يُوحِي إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ الشوریٰ ۴۲: ۱⧉ ۲⧉ ۳⧉ یعنی ”اسی طرح وحی کرتا ہے اللہ تعالیٰ غالب حکمتوں والا تیری طرف اور ان نبیوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے“۔اسی طرح اور ایسی سورتوں کے شروع کو بغور دیکھئیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان حروف کے بعد کلام پاک کی عظمت و عزت کا ذکر ہے جس سے یہ بات قوی معلوم ہوتی ہے کہ یہ حروف اس لیے لائے گئے ہیں کہ لوگ اس کے لیے معارضے اور مقابلے میں عاجز ہیں۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان حروف سے مدت معلوم کرائی گئی ہے اور فتنوں لڑائیوں اور دوسرے ایسے ہی کاموں کے اوقات بتائے گئے ہیں۔ لیکن یہ قول بھی بالکل ضعیف معلوم ہوتا ہے اس کی دلیل میں ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے۔ لیکن اول تو وہ ضعیف ہے دوسرے اس حدیث سے اس قول کی پختگی کا ایک طرف اس کا باطل ہونا زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ حدیث محمد بن اسحاق بن یسار نے نقل کی ہے جو تاریخ کے مصنف ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ ابویاسر بن اخطب یہودی اپنے چند ساتھیوں کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اس وقت سورۃ الالبقرہ⧉ کی شروع آیت الم * ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ البقرہ ۲: ۱⧉ ۲⧉ الخ تلاوت فرما رہے تھے وہ اسے سن کر اپنے بھائی حیی بن اخطب کے پاس آیا اور کہا میں نے آج آپ ﷺ کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ وہ پوچھتا ہے تو نے خود سنا؟ اس نے کہا: ہاں میں نے خود سنا ہے۔ حیی ان سب یہودیوں کو لے کر پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے حضور کیا یہ سچ ہے کہ آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سچ ہے۔ اس نے کہا سنیے! آپ ﷺ سے پہلے جتنے نبی آئے کسی کو بھی نہیں بتایا گیا تھا۔ کہ اس کا ملک اور مذہب کب تک رہے گا لیکن آپ کو بتا دیا گیا پھر کھڑا ہو کر لوگوں سے کہنے لگا سنو! الف کا عدد ہوا ایک، لام کے تیس، میم کے چالیس۔ کل اکہتر ہوئے۔ کیا تم اس نبی کی تابعداری کرنا چاہتے ہو جس کے ملک اور امت کی مدت کل اکہتر سال ہو؟ پھر نبی کریم ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا کہ کیا کوئی اور آیت بھی ایسی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں المص ، کہنے لگا یہ بڑی بھاری اور بہت لمبی ہے۔ الف کا ایک، لام کے تیس، میم کے چالیس، صواد کے نوے یہ سب ایک سو اکسٹھ سال ہوئے۔ کہا اور کوئی بھی ایسی آیت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ الر کہنے لگا یہ بھی بہت بھاری اور لمبی ہے۔ الف کا ایک، لام کے تیس اور رے کے دو سو۔ جملہ دو سو اکتیس برس ہوئے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی ایسی ہے۔ آپ نے فرمایا المر ہے کہا یہ تو بہت ہی بھاری ہے الف کا ایک، لام کے تیس، میم کے چالیس، رے کے دو سو، سب مل کر دو سو اکہتر ہو گئے۔ اب تو کام مشکل ہو گیا اور بات خلط ملط ہو گئی۔ ” لوگو! اٹھو، ابویاسر نے اپنے بھائی سے اور دوسرے علماء یہود سے کہا۔“ کیا عجب کہ ان سب حروف مجموعہ کی مدت محمد ﷺ کو ملی ہو اکہتر ایک، سو ایک، ایک سو اکتیس ایک، دو سو اکتیس ایک، دو سو اکہتر ایک، یہ سب مل کر سات سو چار برس ہوئے۔ انہوں نے کہا اب کام خلط ملط ہو گیا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیتیں انہی لوگوں کے حق میں نازل ہوئیں: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ آلِ عمران ۳:۷ ⧉ یعنی الخ ”وہی اللہ جس نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی جس میں محکم آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور دوسری آیتیں مشابہت والی بھی ہیں“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:216/1:ضعیف جدا]
اس حدیث کا دارومدار محمد بن سائب کلبی پر ہے اور جس حدیث کا یہ اکیلا راوی ہو محدثین اس سے حجت نہیں پکڑتے اور پھر اس طرح اگر مان لیا جائے اور ہر ایسے حرف کے عدد نکالے جائیں تو جن پر چودہ حروف کو ہم نے بیان کیا ان کے عدد بہت ہو جائیں گے اور جو حروف ان میں سے کئی کئی بار آئے ہیں اگر ان کے عدد کا شمار بھی کئی کئی بار لگایا جائے تو بہت ہی بڑی گنتی ہو جائے گی۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔