نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا (۱۲۹)
مسند اور سنن میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا، سب سے ادنی درجے کا جنتی وہ ہے جو دو ہزار برس کی راہ تک اپنی ہی اپنی ملکیت دیکھے گا سب سے دور کی چیز بھی اس کے لیے ایسی ہی ہو گی جیسے سب سے نزدیک کی اور سب سے اعلیٰ منزل والے تو دن میں دو دو دفعہ دیدار الٰہی کریں گے۔ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے رات کے وقتوں میں بھی تہجد پڑھا کر۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نماز ہے۔ اور دن کے وقتوں میں بھی اللہ کی پاکیزگی بیان کیا کر۔ تاکہ اللہ کے اجر و ثواب سے تو خوش ہو جائے۔ جیسے فرمان ہے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ الضحی ۹۳:۵ ⧉ عنقریب تیرا اللہ تجھے وہ دے گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ “ صحیح حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو! وہ کہیں گے لبیک ربنا و سعدیک ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم خوش ہو گئے؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت ہی خوش ہیں تو نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں جو مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیں۔ پھر کیا وجہ کہ ہم راضی نہ ہوں۔ جناب باری ارحم الراحمین فرمائے گا، لو میں تمہیں ان سب سے افضل چیز دیتا ہوں۔ پوچھیں گے اے اللہ! اس سے افضل چیز کیا ہے؟ فرمائے گا میں تمہیں اپنی رضا مندی دیتا ہوں کہ اب کسی وقت بھی میں تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549] اور حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ اسے پورا کرنے والا ہے، کہیں گے اللہ کے سب وعدے پورے ہوئے۔ ہمارے چہرے روشن ہیں، ہماری نیکیوں کا پلہ گراں رہا، ہمیں دوزخ سے ہٹا دیا گیا، جنت میں داخل کر دیا گیا۔ اب کون سی چیز باقی ہے؟ اسی وقت حجاب اٹھ جائیں گے اور دیدار الٰہی ہو گا۔ اللہ کی قسم اس سے بہتر اور کوئی نعمت نہ ہو گی۔ یہی زیادتی ہے۔ [صحیح مسلم:181]
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔