نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ
اور موسی یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے (۱۷)
اس سوال کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام عرض کرتے ہیں، یہ میری اپنی لکڑی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں یعنی چلنے میں مجھے یہ سہارا دیتی ہے، اس سے میں اپنی بکریوں کا چارہ درخت سے جھاڑ لیتا ہوں۔ ایسی لکڑیوں میں ذرا مڑا ہوا لوہا لگا لیا کرتے ہیں تاکہ پتے پھل آسانی سے اتر آئیں اور لکڑی ٹوٹے بھی نہیں۔ اور بھی بہت سے فوائد اس میں ہیں۔ ان فوائد کے بیان میں بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہی لکڑی رات کے وقت روشن چراغ بن جاتی تھی۔ دن کو جب آپ سو جاتے تو یہی لکڑی آپ کی بکریوں کی رکھوالی کرتی، جہاں کہیں سایہ دار جگہ نہ ہوتی آپ اسے گاڑ دیتے یہ خیمے کی طرح آپ پر سایہ کرتی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن بظاہر یہ قول بنی اسرائیل کا افسانہ معلوم ہوتا ہے ورنہ پھر آج اسے بصورت سانپ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام اس قدر کیوں گھبراتے؟ وہ تو اس لکڑی کے عجائبات دیکھتے چلے آتے تھے۔ پھر بعض کا قول ہے کہ دراصل یہ لکڑی آدم علیہ السلام کی تھی۔ کوئی کہتا ہے یہی لکڑی قیامت کے قریب دابتہ الارض کی صورت میں ظاہر ہو گی۔ کہتے ہیں اس کا نام ماشا تھا۔ اللہ ہی جانے ان اقوال میں کہاں تک جان ہے؟
لاٹھی اژدھا بن گئیمتبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔