نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّىٰ
(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہوا (۷۶)
اور حدیث میں ہے کہ خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ [صحیح بخاری:3256] سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا ۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔