نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے (۱۰۷)
وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا
النور ۲۴:۵۵ ⧉ ” تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے “۔ اور فرمایا کہ ” یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا “۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد ﷺ زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ” اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں ﷺ پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں “۔ پھر فرماتا کہ ” ہم نے اپنے اس نبی ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے “۔ جیسے ارشاد ہے کہ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ ابراہیم ۱۴: ۲۷⧉ ۲۸⧉ ” کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا “۔اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ فصلت ۴۱:۴۴ ⧉ ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں “۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول ﷺ نے عرض کی کہ نبی کریم ﷺ ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:2599] اور حدیث میں ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔ طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد ﷺ یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔ اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد ﷺ کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔جب نبی کریم ﷺ کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،]
مسند احمد میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اے حذیفہ ایک دن رسول ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے ۔ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح] رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ ﷺ رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ” مؤمنوں کے لیے تو آپ ﷺ دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ ﷺ دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔