نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے (۴)
جیسے فرمان ہے آیت اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ یونس ۱۰: ۹۶⧉ ۹۷⧉ ” جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے “۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم ﷺ کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
بلکہ آپ ﷺ کے یہ معجزے دیگر انبیاء علیہم السلام سے بہت زیادہ ظاہر اور کھلے ہوئے تھے۔ ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع مسجد میں تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تلاوت قرآن کر رہے تھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلول منافق آیا۔ اپنی گدی بچھا کر اپنا تکیہ لگا کر وجاہت سے بیٹھ گیا۔ تھا بھی گورا چٹا، بڑھ بڑھ کر فصاحت کے ساتھ باتیں بنانے والا، کہنے لگا ابوبکر [رضی اللہ عنہ] تم نبی کریم ﷺ سے کہو کہ آپ ﷺ کوئی نشان ہمیں دکھائیں جیسے کہ آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء نشانات لائے تھے مثلا موسیٰ علیہ السلام تختیاں لائے، داؤد علیہ السلام زبور لائے، صالح علیہ السلام اونٹنی لائے، عیسیٰ علیہ السلام انجیل لائے اور آسمانی دستر خوان۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ” نبی کریم ﷺ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم ﷺ ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھ سے فرمایا کہ باہر جاؤ اور لوگوں کے سامنے اپنے ان فضائل کو ظاہر کرو اور ان نعمتوں کا بیان کرو جو اللہ نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہیں۔ میں ساری دنیا کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنات کو بھی پیغام الٰہی پہنچا دوں۔ مجھے میرے رب نے اپنی پاک کتاب عنایت فرمائی ہے حالانکہ محض بے پڑھا ہوں۔ میرے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ میرا نام اذان میں رکھا ہے۔ میری مدد فرشتوں سے کرائی ہے۔ مجھے اپنی امداد و نصرت عطا فرمائی ہے۔ رعب میرا میرے آگے آگے کر دیا ہے۔ مجھے حوض کوثر عطا فرمایا ہے جو قیامت کے دن تمام اور حوضوں سے بڑا ہوگا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کا وعدہ دیا ہے۔ اس وقت جب کہ سب لوگ حیران و پریشان سر جھکائے ہوئے ہوں گے، مجھے اللہ نے اس پہلے گروہ میں چنا ہے جو لوگوں سے نکلے گا۔ میری شفاعت سے میری امت کے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ مجھے غلبہ اور سلطنت عطا فرمائی ہے۔ مجھے جنت نعیم کا وہ بلند و بالا اعلیٰ بالاخانہ ملے گا کہ اس سے اعلیٰ منزل کسی کی نہ ہوگی۔ میرے اوپر صرف وہ فرشتے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ میرے اور میری امت کے لیے غنیمتوں کے مال حلال کئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہ تھے ۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔