نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب (نازل ہو) (۹)
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں “۔اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ ﷺ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
سب انصار جمع ہو گئے اور کہنے لگے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کر دے گا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ ﷺ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا، یا رسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی ۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ ﷺ نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا نبی کریم ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے ۔
اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح ہلال رضی اللہ عنہ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کر لے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس نبی کریم ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے ۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا ۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، اور نبی کریم ﷺ کے سامنے جب ہلال رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے؟ لیکن نبی کریم ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کر دو پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے ۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا ۔ [صحیح بخاری:2671]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے؟ یہ واقعہ ہے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے زمانہ کا، مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا! ” سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یا رسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بے غیرتی کی خاموشی ہے؟ آپ ﷺ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا نبی کریم ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور⧉ کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی ۔ [صحیح بخاری:5312] ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا ۔ [صحیح مسلم:1495] اور روایت میں ہے کہ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا؟ اور آپ ﷺ نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا ۔ [صحیح بخاری:423]
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لیے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہو گی ۔ [صحیح بخاری:423] ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [مسند بزار:2237:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ” سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔