سورۃ القصص (قصص) (آیت 86)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




28 القصص(القصص)، آیت ۸۶

وَمَا كُنْتَ تَرْجُو أَنْ يُلْقَىٰ إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِلْكَافِرِينَ 86 ٨٦

اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا (۸۶)

تفسیر
جو کرو گے سو بھرو گے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہو گی۔ جیسے فرمان ہے فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ الاعراف ۷:۶ ‏ یعنی ” امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے “۔

اور آیت میں ہے يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّ‌سُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ المائدہ ۵:۱۰۹ ‏ ” رسولوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ “

اور آیت میں ہے وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ الزمر ۳۹:۶۹ ‏ ” نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا “۔ مَعَادٍ سے مراد جنت بھی ہو سکتی ہے موت بھی ہو سکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہو سکتی ہے کہ دوبارہ پیدا ہوں اور داخل جنت ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے اس سے مراد مکہ ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مکہ ہے جو آپ کی جائے پیدائش تھی۔

ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب نبی کریم مکہ سے نکلے ابھی جحفہ ہی میں تھے جو آپ کے دل میں مکے کا شوق پیدا ہوا پس یہ آیت اتری اور آپ سے وعدہ ہوا کہ آپ واپس مکے پہنچائے جائیں گے۔

اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہو حالانکہ پوری سورت مکی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے شاید اس کہنے والے کی غرض اس سے بھی قیامت ہے۔ اس لیے کہ بیت المقدس ہی محشر زمین ہے۔ ان تمام اقوال میں جمع کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کبھی تو آپ کے مکے کی طرف لوٹنے سے اس کی تفسیر کی ہے جو فتح مکہ سے پوری ہوئی۔ اور یہ نبی کریم کی عمر کے پورا ہونے کی ایک زبردست علامت تھی جیسے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سورۃ إِذَا جَاءَ نَصْرُ‌ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ النصر ۱۱۰:۱ ‏ کی تفسیر میں فرمایا ہے۔ جس کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی موافقت کی تھی۔ اور فرمایا تھا کہ ” تو جو جانتا ہے وہی میں بھی جانتا ہوں۔‏“ یہی وجہ ہے کہ انہی سے اس آیت کی تفسیر میں جہاں مکہ مروی ہے وہاں نبی کریم کا انتقال بھی مروی ہے اور کبھی قیامت سے تفسیر کی کیونکہ موت کے بعد قیامت ہے اور کبھی جنت سے تفسیر کی جو آپ کا ٹھکانا ہے اور آپ کی تبلیغ رسالت کا بدل ہے کہ آپ نے جن و انس کو اللہ کے دین کی دعوت دی اور آپ تمام مخلوق سے زیادہ کلام زیادہ فصیح اور زیادہ افضل تھے۔

پھر فرمایا کہ ” اپنے مخالفین سے اور جھٹلانے والوں سے کہہ دو کہ ہم میں سے ہدایت والوں کو اور گمراہی والوں کو اللہ خوب جانتا ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ کس کا انجام بہتر ہوتا ہے؟ اور دنیا اور آخرت میں بہتری اور بھلائی کس کے حصے میں آتی ہے؟“

پھر اپنی ایک اور زبردست نعمت بیان فرماتا ہے کہ ” وحی اترنے سے پہلے کبھی آپ کو یہ خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ پر کتاب نازل ہوگی۔ یہ تو تجھ پر اور تمام مخلوق پر رب کی رحمت ہوئی کہ اس نے تجھ پر اپنی پاک اور افضل کتاب نازل فرمائی۔ اب تمہیں ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے بلکہ ان سے الگ رہنا چاہیئے۔ ان سے بیزاری ظاہر کردینی چاہیئے اور ان سے مخالفت کا اعلان کر دینا چاہیئے “۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔