نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ
پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور( دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں (۶۰)
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ الزمر ۳۹:۶۵ ⧉ آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ الروم ۳۰:۶۰ ⧉ تلاوت فرمائی“۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] [وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے]۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم سا ہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے ۔ [مسند احمد:471/3:حسن] اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ ﷺ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ ﷺ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔