نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے (۱۷)
مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ ﷺ کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے
پھر آپ ﷺ نے آیتتَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
السجدہ ۳۲: ۱۶⧉ ۱۷⧉ کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں؟ پھر آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: اسے روک رکھ ۔ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ إلخ السجدہ ۳۲: ۱۶⧉ ۱۷⧉ کو پڑھ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28240:ضعیف و منقطع] اور روایت میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا پھر حضور ﷺ کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27237:ضعیف و منقطع]
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گزار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔“ [مسند بزار:2250:ضعیف] اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔
پھر فرماتا ہے“ ان کے لیے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بنا کر رکھی ہیں، اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا “۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں ۔ اس حدیث کو بیان فرما کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السجدہ ۳۲:۱۷ ⧉ ، اس روایت میں قُرَّةِ کے بجائے قُرَّاتِ پڑھنا بھی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4779] اور روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لیے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا ۔ [صحیح مسلم:3836]
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیتتَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
السجدہ ۳۲: ۱۶⧉ ۱۷⧉ تک تلاوت فرمائی ۔ [صحیح مسلم:2825] حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28256:صحیح بالشواهد] صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ ” اے باری تعالیٰ ادنٰی جنتی کا درجہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ ” ادنٰی جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ “ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ ” کیا تو اس پر خوش ہے؟ کہ تیرے لیے اتنا ہو جتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا؟ “ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” تیرے لیے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتنا ہی اور پانچ گناہ “۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں “۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا ” یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگا دی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں “۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السجدہ ۳۲:۱۷ ⧉ ، ہے ۔ [صحیح مسلم:189]
حضرت عباس بن عبدالواحد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہو گا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آ گیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے “۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔“ابوالیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے، تیسری موتی کی، زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی، اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گزریں، پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
ابن جریر میں ہے نبی کریم ﷺ روح الامین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ الأحقاف ۴۶:۱۶ ⧉ ، یعنی ” یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے در گزر فرما لیا “۔
راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السجدہ ۳۲:۱۷ ⧉ ، فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لیے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28255:ضعیف]
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔