نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ
کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی (۲۹)
جیسے فرمان ہے آیت
فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ
غافر ۴۰: ۸۳⧉ ۸۴⧉ ۸۵⧉ ، یعنی ” جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے “، پوری دو آیتوں تک، اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ ﷺ نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریباً دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہیئے تھا کہ اللہ کے پیغمبر علیہ السلام ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانا مقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ الشعراء ۲۶:۱۱۸ ⧉ ” ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر “۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ سبأ ۳۴:۲۶ ⧉ یعنی ” اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا “۔ اور آیت میں ہے وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ ابراہیم ۱۴:۱۵ ⧉ ” یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے “آیت وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا البقرہ ۲:۸۹ ⧉ ” اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے “ اور آیت میں فرمان باری ہے اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ الانفال ۸:۱۹ ⧉ ” اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی “۔
پھر فرماتا ہے ” آپ ﷺ ان مشرکین سے بے پرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے “۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ الانعام ۶:۱۰۶ ⧉ ” اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں “۔ پھر فرمایا ” تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اس کی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں،چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بے سود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کر دئیے جائیں؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی [نکبت] وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہدو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے “۔اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ السجدہ⧉ کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالْحَمْدُ لِلَّـه
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔