نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا
اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے (۲۹)
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ ﷺ خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔
پھر کہنے لگے ” یا رسول اللہ ﷺ کاش کہ آپ ﷺ دیکھتے میری بیوی نے آج مجھ سے روپیہ پیسہ مانگا میرے پاس تھا نہیں جب زیادہ ضد کرنے لگیں تو میں نے اٹھ کر گردن ناپی۔“ یہ سنتے ہی نبی کریم ﷺ ہنس پڑے اور فرمانے لگے یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ” افسوس تم رسول اللہ ﷺ سے وہ مانگتی ہو جو آپ ﷺ کے پاس نہیں۔“ وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ ﷺ نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم ﷺ کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔ اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ ﷺ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ” میں نے آپ ﷺ کو اختیار کیا۔“
آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے چھپانے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ میں سکھانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں مجھ سے تو جو دریافت کرے گی میں صاف صاف بتا دوں گا ۔ [صحیح مسلم:1478] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا [مسند احمد:78/1:ضعیف] لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ” آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں “۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ ﷺ طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے وَاللهُ اَعْلَمُ ۔جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم ﷺ نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ ۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔