نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
إِنْ تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو کہ) خدا ہر چیز سے باخبر ہے (۵۴)
اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔ البقرہ ۲:۱۲۵ ⧉
صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم ﷺ نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ ﷺ نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ ﷺ کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم ﷺ پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو خبر دی۔ اب آپ ﷺ آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” میں نے بھی جانا چاہا تو آپ ﷺ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری“ ۔ [صحیح بخاری:4791] اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ ﷺ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اب دستر خوان بڑھا دو ۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم ﷺ یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ۔ انہوں نے جواب دیا ” وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فرمایئے نبی کریم ﷺ بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ۔ اسی طرح آپ ﷺ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ ﷺ میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ ﷺ کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ ﷺ کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ ﷺ پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ ﷺ نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی ۔ [صحیح بخاری:4783] ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ [صحیح بخاری:4794] ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ ﷺ کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول ﷺ کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔ میں نے جا کر نبی کریم ﷺ کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ ﷺ نے اسے دیکھا اور فرمایا: اچھا اسے رکھ دو ۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے میں نے یہی کیا۔ جو ملا اسے نبی کریم ﷺ کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ ۔ میں لایا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ ﷺ نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو ۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: پیالہ اٹھالو ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم ﷺ پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔ اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ ﷺ گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ ﷺ اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ ﷺ اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں ۔ [صحیح مسلم:1428] پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ ﷺ کا مانگا لے جانے کی روایت آیت فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا الأحزاب ۳۳:۳۷ ⧉ ، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ” ہم نے تمہیں اے سودہ [رضی اللہ عنہا] پہچان لیا۔“ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:] اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم ﷺ شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے ۔ [صحیح بخاری:4895] آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ ۔ [صحیح بخاری:5232] پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ” مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو “۔مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ ” کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔
پھر فرمایا ” جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ “۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور ۔ [صحیح مسلم:1429] حدیث میں ہے اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا ۔ [صحیح بخاری:2568] دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ” جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو “۔ جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم ﷺ کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ ﷺ کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ” تمہارا بے اجازت نبی کریم ﷺ کے گھروں میں چلے جانا آپ ﷺ پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ ﷺ بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے “۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ” اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ ﷺ کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو “۔ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے ” کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی“ اس وقت پردے کا حکم اترا ۔ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف]
پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ” مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے “۔ کسی شخص نے آپ ﷺ کی کسی بیوی سے آپ ﷺ کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ ﷺ کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔ یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ ﷺ کے گھر میں آپ ﷺ کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ ﷺ کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ” اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم ﷺ کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم ﷺ نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم ﷺ سے بری کر دیا“، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل] پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ” رسول ﷺ کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ غافر ۴۰:۱۹ ⧉ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے “۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔