نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں (۲۳)
تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔
عبدالرزاق میں ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” اولیاء اللہ کی صفت یہی ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل موم ہو جائیں اور ذکر اللہ کی طرف وہ جھک جائیں ان کے دل ڈر جائیں ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور طبیعت میں سکون پیدا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ عقل جاتی رہے حالت طاری ہو جائے۔ نیک و بد کا ہوش نہ رہے۔ یہ بدعتیوں کے افعال ہیں کہ ہا ہو کرنے لگتے ہیں اور کودتے اچھلتے اور پکڑے پھاڑتے ہیں یہ شیطانی حرکت ہے۔ ذکر اللہ سے مراد وعدہ اللہ بھی بیان کیا گیا ہے۔“پھر فرماتا ہے ” یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا “۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔