نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ (۳۶)
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم ﷺ سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد ﷺ کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم ﷺ کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ وفرجت عن صدرہ کل غم یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ ﷺ ] اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ ﷺ کا ساتھی اور آپ ﷺ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ ﷺ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف] طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ ﷺ نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔