نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ
اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھ رہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو۔ سو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہوسکے گی؟) (۱۸)
پس نبی کریم ﷺ کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لیے کہ آپ ﷺ رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں، آپ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور نبی کریم ﷺ نے قیامت کی شرطیں اور اس کی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں ” نبی کریم ﷺ کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے“، چنانچہ خود آپ ﷺ کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں نبی التوبہ ، نبی الملحمہ ، حاشر جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں، عاقب جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ [صحیح مسلم:124] بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا: ” میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں“ ۔ [صحیح بخاری:4936] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہو جانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہو گی؟ جیسے ارشاد ہے يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى الفجر ۸۹:۲۳ ⧉ ” اس دن انسان نصیحت حاصل کر لے گا لیکن اس کے لیے نصیحت کہاں؟ “ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ سبأ ۳۴:۵۲ ⧉ یعنی ” اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہو سکتی ہے؟ “ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے۔پھر فرماتا ہے ” اے نبی! جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں “، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لیے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو۔
صحیح حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي، وَخَطَئي، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي یعنی، اے اللہ! میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہو گئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بے قصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے“ ۔ [صحیح بخاری:2398] اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ اپنی نماز کے آخر میں کہتےاَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُوَخِّرُ لَا اِلٰہَ إلاَّ أَنْتَ
یعنی، ” اے اللہ! میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے، تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں“ ۔ [صحیح مسلم:771] اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ“ ۔ [صحیح بخاری:6307] مسند احمد میں ہے عبداللہ بن سرخس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے کھانے میں سے کھانا کھایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپ کو بخشے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اور تجھے بھی“ تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے استغفار کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ہاں اور اپنے لیے بھی“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ” اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔“ پھر میں نے آپ ﷺ کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے [صحیح مسلم:2346] ۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” تملَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ
کا اور اَسْتَغْفِرُ اﷲَ کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لیے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں“ ۔ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا: اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے، میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا: ” مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں “ ۔ [مسند احمد:76/3:ضعیف وله شواهد] استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہےوَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
الانعام ۶:۶۰ ⧉ یعنی ” اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے “۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ہود ۱۱:۶ ⧉ ، یعنی ” زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں “۔ ابن جریج رحمہ اللہ کا یہی قول ہے اور امام جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:318/11:] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔