سورۃ محمد (آیت 30)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




47 محمد(محمد)، آیت ۳۰

وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيمَاهُمْ ۚ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ 30 ٣٠

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔ اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے! اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے (۳۰)

تفسیر
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئے اور ان کے نفاق کی بہت سی خصلتوں کا ذکر وہاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس سورت کا دوسرا نام ہی فاضحہ رکھ دیا گیا یعنی منافقوں کو فضیحت کرنے والی۔

اَضْغَانَ جمع ہے ضِّغْنُ کی، ضِّغْنُ کہتے ہیں دلی حسد و بغض کو۔ اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر ہم چاہیں تو ان کے وجود تمہیں دکھا دیں پس تم انہیں کھلم کھلا جان جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا ان تمام منافقوں کو بتا نہیں دیا تاکہ اس کی مخلوق پر پردہ پڑا رہے ان کے عیوب پوشیدہ رہیں، اور باطنی حساب اسی ظاہر و باطن جاننے والے کے ہاتھ رہے لیکن ہاں تم ان کی بات چیت کے طرز اور کلام کے ڈھنگ سے ہی انہیں صاف پہچان لو گے۔

امیرالمؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں“ جو شخص کسی پوشیدگی کو چھپاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے چہرے پر اور اس کی زبان پر ظاہر کر دیتا ہے۔‏“

حدیث شریف میں ہے جو شخص کسی راز کو پردہ میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر عیاں کر دیتا ہے وہ بہتر ہے تو اور بدتر ہے تو ۔ ہم نے شرح صحیح بخاری کے شروع میں عملی اور اعتقادی نفاق کا بیان پوری طرح کر دیا ہے جس کے دوہرانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ حدیث میں منافقوں کی ایک جماعت کی [‏تعیین] ‏ آ چکی ہے۔ [طبرانی کبیر:1702:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے رسول اللہ نے اپنے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ” تم میں بعض لوگ منافق ہیں پس جس کا میں نام لوں وہ کھڑا ہو جائے۔ اے فلاں کھڑا ہو جا، یہاں تک کہ چھتیس اشخاص کے نام لیے۔‏“ پھر فرمایا: ” تم میں، یا تم میں سے، منافق ہیں، پس اللہ سے ڈرو۔‏“ اس کے بعد ان لوگوں میں سے ایک کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ اس وقت کپڑے میں اپنا منہ لپیٹے ہوا تھا۔ آپ اسے خوب جانتے تھے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے نبی کریم کی اوپر والی حدیث بیان کی تو آپ نے فرمایا: اللہ تجھے غارت کرے ۔ [مسند احمد:273/5:ضعیف] ‏

پھر فرمایا ہے ہم حکم احکام دے کر، روک ٹوک کر کے تمہیں خود آزما کر معلوم کر لیں گے کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں؟ اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ اور ہم تمہارے احوال آزمائیں گے۔ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس علام الغیوب کو ہر چیز، ہر شخص اور اس کے اعمال معلوم ہیں تو یہاں مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامنے کھول دے اور اس حال کو دیکھ لے اور دکھا دے اسی لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جیسے مواقع پر لِنَعْلَمَ کے معنی کرتے تھے ِلنَریٰ یعنی تا کہ ہم دیکھ لیں۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔