نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے (۶)
اکثر مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔
چنانچہ مسند احمد میں ہے حارث بن ضرار خزاعی جو ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے والد ہیں فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی دعوت دی جو میں نے منظور کر لی اور مسلمان ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے زکوٰۃ کی فرضیت سنائی میں نے اس کا بھی اقرار کیا اور کہا کہ میں واپس اپنی قوم میں جاتا ہوں اور ان میں سے جو ایمان لائیں اور زکوٰۃ ادا کریں، میں ان کی زکوۃٰ جمع کرتا ہوں، اتنے اتنے دنوں کے بعد آپ ﷺ میری طرف کسی آدمی کو بھیج دیجئیے، میں اس کے ہاتھ جمع شدہ مال زکوٰۃ آپ ﷺ کی خدمت میں بھجوا دوں گا۔ سیدنا حارث رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر یہی کیا، مال زکوٰۃ جمع کیا، جب وقت مقررہ گزر چکا اور نبی کریم ﷺ کی طرف سے کوئی قاصد نہ آیا، تو آپ نے اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا اور ان سے کہا: یہ تو ناممکن ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے وعدے کے مطابق اپنا کوئی آدمی نہ بھیجیں، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں؟ اور اس بنا پر آپ نے اپنا کوئی قاصد مال زکوٰۃ لے جانے کے لیے نہ بھیجا ہو، اگر آپ لوگ متفق ہوں تو ہم اس مال کو لے کر خود ہی مدینہ شریف چلیں اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیں یہ تجویز طے ہو گئی اور یہ حضرات اپنا مال زکوٰۃ ساتھ لے کر چل کھڑے ہوئے۔ ادھر سے رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیج چکے تھے لیکن یہ راستے ہی میں سے ڈر کے مارے لوٹ آئے اور یہاں آ کر کہہ دیا کہ حارث نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے قتل کے درپے ہو گیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ ناراض ہوئے اور کچھ آدمی تنبیہ کے لیے روانہ فرمائے، مدینہ کے قریب راستے ہی میں اس مختصر سے لشکر نے حارث کو پا لیا اور گھیر لیا۔ حارث نے پوچھا: آخر کیا بات ہے؟ تم کہاں اور کس کے پاس جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم تیری طرف بھیجے گئے ہیں پوچھا کیوں؟ کہا: اس لیے کہ تو نے نبی کریم ﷺ کے قاصد ولید رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ نہ دی بلکہ انہیں قتل کرنا چاہا۔ حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس اللہ کی جس نے محمد ﷺ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے اسے دیکھا، نہ وہ میرے پاس آیا، چلو میں تو خود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں، یہاں آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تو نے زکوٰۃ بھی روک لی اور میرے آدمی کو بھی قتل کرنا چاہا؟ حارث نے جواب دیا ہرگز نہیں یا رسول اللہ! قسم ہے اللہ کی جس نے آپ کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے، نہ میں نے انہیں دیکھا، نہ وہ میرے پاس آئے۔ بلکہ قاصد کو نہ دیکھ کر اس ڈر کے مارے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ مجھ سے ناراض نہ ہو گئے ہوں اور اسی وجہ سے قاصد نہ بھیجا ہو میں خود حاضر خدمت ہوا، اس پر یہ آیت وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ الحجرات ۴۹:۸ ⧉ تک نازل ہوئی ۔ [مسند احمد:279/4:حسن بشواھدہ]
طبرانی میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا قاصد حارث کی بستی کے پاس پہنچا تو یہ لوگ خوش ہو کر اس کے استقبال کیلئے خاص تیاری کر کے نکلے، ادھر ان کے دل میں یہ شیطانی خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ مجھ سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں، تو یہ لوٹ کر واپس چلے آئے، انہوں نے جب یہ دیکھا کہ آپ ﷺ کے قاصد واپس چلے گئے، تو خود ہی حاضر ہوئے اور ظہر کی نماز کے بعد صف بستہ کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اپنے آدمی کو بھیجا، ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، ہم بے حد خوش ہوئے، لیکن اللہ جانے کیا ہوا کہ وہ راستے میں سے ہی لوٹ گئے تو اس خوف سے کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو گیا ہو ہم حاضر ہوئے ہیں اسی طرح وہ عذر معذرت کرتے رہے۔ عصر کی اذان جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ ولید رضی اللہ عنہ کی اس خبر پر ابھی نبی کریم ﷺ سوچ ہی رہے تھے کہ کچھ آدمی ان کی طرف بھیجیں جو ان کا وفد آ گیا اور انہوں نے کہا آپ ﷺ کا قاصد آدھے راستے سے ہی لوٹ گیا، تو ہم نے خیال کیا کہ آپ نے کسی ناراضگی کی بنا پر انہیں واپسی کا حکم بھیج دیا ہو گا اس لیے حاضر ہوئے ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور اس کا عذر سچا بتایا ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/11:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ان لوگوں نے تو آپ ﷺ سے لڑنے کے لیے لشکر جمع کر لیا ہے اور اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی زیر امارت ایک فوجی دستے کو بھیج دیا لیکن انہیں فرما دیا تھا کہ ” پہلے تحقیق و تفتیش اچھی طرح کر لینا، جلدی سے حملہ نہ کر دینا“۔ اسی کے مطابق سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر اپنے جاسوس شہر میں بھیج دئیے وہ خبر لائے کہ وہ لوگ دین اسلام پر قائم ہیں، مسجد میں اذانیں ہوئیں، جنہیں ہم نے خود سنا اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے خود دیکھا۔ صبح ہوتے ہی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ خود گئے اور وہاں کے اسلامی منظر سے خوش ہوئے، واپس آ کر سرکار نبوی میں ساری خبر دی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ قتادہ رحمہ اللہ جو اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ” تحقیق و تلاش بردباری اور دور بینی اللہ کی طرف سے ہے۔ اور عجلت اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:384/11:ضعیف] سلف میں سے قتادہ رحمہ اللہ کے علاوہ اور بھی بہت سے حضرات نے یہی ذکر کیا ہے جیسے ابن ابی لیلیٰ، یزید بن رومان، ضحاک، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔ ان سب کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وَاللهُ اَعْلَمُ
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔