نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے (۱۱۸)
ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بے ختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ ﷺ کو نہیں معلوم کہ آپ ﷺ کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا ۔ پس فرمایا جائے گا کہ آپ ﷺ کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے ۔ [صحیح بخاری:4625]
اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اس کی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے بازپرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول علیہ السلام پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔ اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی کریم ﷺ اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے ۔ [سنن ابن ماجہ:1350،قال الشيخ الألباني:حسن] چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے۔ صبح کو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ ﷺ نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفاعت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہو گی ۔ [مسند احمد:149/5:حسن] ان شاءاللہ تعالیٰ۔مسند احمد کی اور حدیث میں ہے سیدہ جرہ بنت دجاجہ رضی اللہ عنہا عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتی ہیں تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نماز میں مشغول ہیں تو آپ ﷺ اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین چلے گئے تو آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہو گئے میں بھی آگیا اور آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو، آپ ﷺ نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آ گیا، پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور وہ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چنانچہ وہ آکر بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔ اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کررہے تھے اور حضور علیہ السلام کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، باربار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا نبی کریم ﷺ سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا اگر نبی کریم ﷺ خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھوں گا۔ اب میں نے خود ہی جرأت کر کے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ ﷺ پر اترا ہے اور آپ ﷺ کے سینے میں ہے ۔
پھر آپ ﷺ نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی امت کے لیے دعا کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں ، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوشخبری پہنچا دوں؟ آپ ﷺ نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر یہ خبر آپ ﷺ نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بے پرواہ نہ ہو جائیں تو آپ ﷺ نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ المائدہ ۵:۱۱۸ ⧉ تھی ۔ [مسند احمد:170/5:حسن]
ابن ابی حاتم میں ہے حضور ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے میرے رب میری امت! اور آپ ﷺ رونے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، جبرائیل علیہ السلام آئے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی امت کے لیے! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ ﷺ بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے “۔ [صحیح مسلم:202] مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز رسول ﷺ ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ ﷺ آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ ﷺ تشریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گر پڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ ﷺ کی روح پرواز نہ کر گئی ہو؟ تھوڑی دیر میں آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا ” اے نبی ﷺ میں آپ کو آپ ﷺ کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا “۔ سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ ” میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا “۔ میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لیے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔
چنانچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہو گی اور نہ سب کے سب مغلوب ہو جائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لیے غنیمت کا مال حلال طیب کر دیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی ۔ [مسند احمد:393/5:ضعیف]
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔