نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ
جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے (۴۲)
فرمان باری ہے يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا الاسراء ۱۷:۵۲ ⧉ یعنی ” جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے “۔
صحیح مسلم میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ ۔ [صحیح مسلم:2278-3] فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ القمر ۵۴:۵۰ ⧉ ” یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا “۔ اور آیت میں ہے مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ لقمان ۳۱:۲۸ ⧉ ” یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ “ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ * فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ * وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ الحجر ۱۵: ۹۷⧉ ۹۸⧉ ۹۹⧉ ” واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ “ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ الرعد ۱۳:۴۰ ⧉ ” یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے “ اور آیت میں ہے فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ الغاشیہ ۸۸: ۲۱⧉ ۲۲⧉ ” تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں “۔ اور جگہ ہے لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ البقرہ ۲:۲۷۲ ⧉ ” تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے “اور جگہ ہے اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ القصص ۲۸:۵۶ ⧉ ” یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے “ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔سورۃ ق⧉ کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔