سورۃ النجم (ستارہ) (آیت 27)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




53 النجم(النجم)، آیت ۲۷

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَىٰ 27 ٢٧

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں (۲۷)

تفسیر
آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ الزخرف ۴۳:۱۹ ‏ یعنی ” اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ “

یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔[صحیح بخاری:6066] ‏

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔

نبی کریم فرماتے ہیں: ” دنیا اس کا گھر ہے جس کا [‏آخرت میں] گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال [‏آخرت میں] کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏

ایک منقول دعا میں نبی کریم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں ‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔