نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے (۲۹)
اسی مضمون کی ایک آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ الانفال ۸:۲۹ ⧉ ہے یعنی ” اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔“
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ ” تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ” ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔“ سعید رحمہ اللہ نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا ” اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے۔“مسند احمد کی حدیث میں ہے تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔[صحیح بخاری:2268]
صحیح بخاری میں ہے مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرا لی اور انہوں نے ظہر تک کام کر کے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لیے بغیر چلتے بنے، اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہیئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے، اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے۔ پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔ [صحیح بخاری:2271] پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں لِئَلَّا يَعْلَمَ کا معنی لِیَعْلَمَ ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لِکَیْ یَعْلَمَ ہے، اسی طرح عطابن عبداللہ رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔ غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں لا صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ الاعراف ۷:۱۲ ⧉ میں ہے اور آیت وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ الانعام ۶:۱۰۹ ⧉ میں اور آیت وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ الانبیاء ۲۱:۹۵ ⧉ میں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سورۃ الحدید⧉ کی تفسیر ختم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس ستائیسویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے پاک کلام کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔ اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔ یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔