سورۃ الانعام (مویشی) (آیت 18)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




6 الانعام(الأنعام)، آیت ۱۸

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ 18 ١٨

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے (۱۸)

تفسیر
قرآن کریم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ ” نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کر سکتا “۔

اسی آیت جیسی آیت مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْ بَعْدِهٖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ فاطر ۳۵:۲ ‏ ہے یعنی ” اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا “۔ اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ فرمایا کرتے تھے اللهم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ اے اللہ جسے تو دے اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا ۔ [صحیح بخاری:844] ‏

اس کے بعد فرماتا ہے ” وہ اپنے بندوں پر قاہر و غالب ہے، سب کی گردنین اس کے سامنے پست ہیں، سب بڑے اس کے سامنے چھوٹے ہیں، ہر چیز اس کے قبضے اور قدرت میں ہے تمام مخلوق اس کی تابعدار ہے اس کے جلال اس کی کبریائی اس کی عظمت اس کی بلندی اس کی قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے ہر ایک کا مالک وہی ہے، حکم اسی کا چلتا ہے، حقیقی شہنشاہ اور کامل قدرت والا وہی ہے، اپنے تمام کاموں میں وہ باحکمت ہے، وہ ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز سے با خبر ہے، وہ جسے جو دے وہ بھی حکمت سے اور جس سے جو روک لے وہ بھی حکمت ہے “۔

پھر فرماتا ہے ” پوچھو تو سب سے بڑا اور زبردست اور بالکل سچا گواہ کون ہے؟ جواب دے کہ مجھ میں تم میں اللہ ہی گواہ ہے، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اور جو تم مجھ سے کر رہے ہو اسے وہ خوب دیکھ بھال رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے، میری جانب اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ میں تم سب حاضرین کو بھی اس سے آگاہ کر دوں اور جسے بھی یہ پہنچی اس تک میرا پیغام پہنچ جائے “۔

جیسے اور آیت میں ہے وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ہود ۱۱:۱۷ ‏ یعنی ” دنیا کے تمام لوگوں میں سے جو بھی اس قرآن سے انکار کرے اس کا ٹھکانا جہم ہی ہے “۔

محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” جسے قرآن پہنچ گیا اس نے گویا خود رسول اللہ کو دیکھ لیا بلکہ گویا آپ سے باتیں کر لیں اور اس پر اللہ کے رسول نے اللہ کا دین پیش کر دیا۔‏“

قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے ” اللہ کا پیغام اس کے بندوں کو پہنچاؤ جسے ایک آیت قرآنی پہنچ گئی اسے اللہ کا امر پہنچ گیا۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:13122:مرسل و ضعیف] ‏

ربیع بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے ” اللہ کے نبی کے تمام تابعی لوگوں پر حق ہے کہ وہ مثل دعوت رسول کے لوگوں کو دعوت خیر دیں اور جن چیزوں اور کاموں سے آپ نے ڈرا دیا ہے یہ بھی اس سے ڈراتے رہیں۔‏“

” مشرکو تم چاہے اللہ کے ساتھ اور معبود بھی بتاؤ لیکن میں تو ہرگز ایسا نہیں کروں گا “ جیسے اور آیت میں ہے فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ الانعام ۶:۱۵۰ ‏ ” یہ گو شہادت دیں لیکن تو ان کا ہمنوا نہ بن “۔

یہاں فرمایا ” تم صاف کہہ دو کہ اللہ تو ایک ہی ہے اور تمہارے تمام معبودان باطل سے میں الگ تھلگ ہوں۔ میں ان سب سے بیزار ہوں کسی کا بھی روادار نہیں “۔

پھر فرماتا ہے ” یہ اہل کتاب اس قرآن کو اور اس نبی کو خوب جانتے ہیں جس طرح انسان اپنی اولاد سے واقف ہوتا ہے اسی طرح یہ لوگ آپ سے اور آپ کے دین سے واقف اور با خبر ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں یہ سب خبریں موجود ہیں “۔

نبی کریم کے وجود کی آپ کی نبوت کی خبریں ان کی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں آپ کی صفتیں، آپ کا وطن، آپ کی ہجرت، آپ کی امت کی صفت، ان تمام چیزوں سے یہ لوگ آگاہ ہیں اور ایسے صاف طور پر کہ جس میں کسی قسم کا شک شبہ نہیں، پھر ایسے ظاہر باہر صاف شفاف کھلم کھلا امر سے بے ایمانی کرنا انہی کا حصہ ہے جو خود اپنا برا چاہنے والے ہوں اور اپنی جانوں کو ہلاک کرنے والے ہوں۔

حضور کی آمد سے پہلے ہی نشان ظاہر ہو چکے جو نبی علیہ السلام آپ سے پہلے آپ کی بشارتیں دیتا ہوا آیا، پھر انکار کرنا سورج چاند کے وجود سے انکار کرنا ہے، اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھ لے؟ اور فی الواقع اس سے بھی زیادہ ظالم کوئی نہیں جو سچ کو جھوٹ کہے اور اپنے رب کی باتوں اور اس کی اٹل حجتوں اور روشن دلیلوں سے انکار کرے، ایسے لوگ فلاح سے، کامیابی سے، اپنا مقصد پانے سے اور نجات و آرام سے محروم محض ہیں۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔