نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (۳۷)
اور مقام پر ارشاد ہے آیت وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ العنكبوت ۲۹:۶۰ ⧉ ” بہت سے وہ جاندار ہیں جن کی روزی تیرے ذمہ نہیں انہیں اور تم سب کو اللہ ہی روزیاں دیتا ہے وہ باریک سے باریک آواز کو سننے والا ہے اور ہر چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ہے “۔
ابو یعلیٰ میں جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو سال کی خلافت کے زمانہ میں سے ایک سال ٹڈیاں دکھائی ہی نہیں دیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت خیال ہوا اور شام، عراق، یمن وغیرہ کی طرف سوار دوڑائے کہ دریافت کر آئیں کہ ٹڈیاں اس سال کہیں نظر بھی پڑیں یا نہیں؟ یمن والا قاصد جب واپس آیا تو، آپ رضی اللہ عنہ نے ساتھ مٹھی بھر ٹڈیاں بھی لیتا آیا اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈال دیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر تین مرتبہ تکبیر کہی اور فرمایا ” میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں۔ ان تمام امتوں میں سے سب سے پہلے ٹڈی ہلاک ہو گی اس کے بعد تو ہلاکت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا بالکل اس طرح جیسے کسی تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور موتی یکے بعد دیگرے جھڑنے لگ گئے ۔ [بیهقی فی شعب الایمان:10132/7:موضوع]
پھر فرماتا ہے ” سب کا حشر اللہ کی طرف ہے “ یعنی سب کو موت ہے، چوپایوں کی موت ہی ان کا حشر ہے۔ ایک قول تو یہ ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ میدان محشر میں بروز قیامت یہ بھی اللہ جل شانہ کے سامنے جمع کئے جائیں گے۔ جیسے فرمایا آیت وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ التکویر ۸۱:۵ ⧉ مسند احمد میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں؟ جواب ملا کہ میں کیا جانوں؟ فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور ان کے درمیان وہ فیصلہ بھی کرے گا ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1588:صحیح] ۔ابن جریر کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اڑنے والے ہر ایک پرند کا علم بھی ہمارے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13227:حسن بالشواهد]
مسند کی اور روایت میں ہے کہ بے سینگ بکری قیامت کے دن سینگ والی بکری سے اپنا بدلہ لے گی ۔ [مسند احمد:323/2:حسن لغیره] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمام مخلوق چوپائے بہائم پرند وغیرہ غرض تمام چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہوں گی۔ پھر ان میں یہاں تک عدل ہوگا کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے جناب باری فرمائے گا ” تم مٹی ہو جاؤ “۔ اس وقت کافر بھی یہی آرزو کریں گے کہ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا النبأ ۷۸:۴۰ ⧉ ” کاش ہم بھی مٹی ہو جاتے “ ۔ صور والی حدیث میں یہ مرفوعاً بھی مروی ہے۔ پھر کافروں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ ” وہ اپنی کم علمی اور کج فہمی میں ان بہروں گونگوں کے مثل ہیں جو اندھیروں میں ہوں۔ بتاؤ تو وہ کیسے راہ راست پر آ سکتے ہیں؟ نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نہ کچھ دیکھ سکیں “۔ جیسے سورۃ الالبقرہ⧉ کی ابتداء میں ہے کہ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّـهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ البقرہ ۲: ۱۷⧉ ۱۸⧉ ” ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو آگ سلگائے جب آس پاس کی چیزیں اس پر روشن ہو جائیں اس وقت آگ بجھ جائے اور وہ اندھیریوں میں رہ جائے اور کچھ نہ دیکھ سکے۔ ایسے لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ راہ راست کی طرف لوٹ نہیں سکتے “۔اور آیت میں ہے اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ظُلُمٰتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ النور ۲۴:۴۰ ⧉ یعنی ” مثل ان اندھیروں کے جو گہرے سمندر میں ہوں جس کی موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر سے ابر چھایا ہو اندھیروں پر اندھیریاں ہوں کہ ہاتھ بھی نظر نہ آ سکے۔ جسے قدرت نے نور نہیں بخشا وہ بے نور ہے “۔ پھر فرمایا ” ساری مخلوق میں اللہ ہی کا تصرف ہے وہ جسے چاہے صراط مستقیم پر کردے “۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔