نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں (۱۲)
مسند احمد میں ہے نبی کریم ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو پورا علم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ” سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں“ ۔ [مسند احمد:293/1:صحیح]
صحیح بخاری، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور مریم بنت عمران ہیں اور خدیجہ بنت خویلد ہیں اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر“ ۔ [صحیح بخاری:3769] ہم نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کے بیان کے موقعہ پر اس حدیث کی سندیں اور الفاظ بیان کر دیئے ہیں۔ فالحمداللہاور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسی سورت کی آیت کے الفاظ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا التحریم ۶۶:۵ ⧉ کی تفسیر کے موقعہ پر وہ حدیث بھی ہم بیان کر چکے ہیں جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جنتی بیویوں میں ایک آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم بھی ہیں ۔
الحمداللہ سورۃ التحریم⧉ کی تفسیر ختم ہوئی۔اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے اٹھائیسویں پارے قد سمع اللہ کی تفسیر ختم ہوئی، پروردگار ہمیں اپنے کلام کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔ باری تعالیٰ تو اسے قبول فرما اور میرے لیے باقیات صالحات میں کر لے آمین! ۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔