نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے (۱۲)
مسند بزار میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ! ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے، آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ ﷺ نے فرمایا: ” یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟“ جواب ملا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا: ” جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔“ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ ” تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں “، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بے خبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بے حد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ ” زمین کو اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے ان میں جاری کر دیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں، پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو، طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے “، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ۔ [سنن ترمذي:2344،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ مَنَاکِبِ سے مراد کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر مَنَاکِبِ کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا اس سے مراد پہاڑ ہیں آپ نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔