سورۃ الاعراف (بلندیوں) (آیت 153)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




7 الاعراف(الأعراف)، آیت ۱۵۳

وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ 153 ١٥٣

اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے (۱۵۳)

تفسیر
باہم قتل کی سزا ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ الالبقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔

اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” ہر بدعتی ذلیل ہے۔“

پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔