امت محمد
ﷺ کے اوصاف یعنی بعض لوگ حق و عدل پر قائم ہیں۔ حق بات ہی زبان سے نکالتے ہیں، حق کام ہی کرتے ہیں، حق کی طرف ہی اوروں کو بلاتے ہیں، حق کے ساتھ ہی انصاف کرتے ہیں اور بعض آثار میں مروی ہے کہ اس سے مراد امت محمدیہ ہے۔ چنانچہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم
ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے کہ یہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے پہلے یہ وصف قوم موسیٰ علیہ السلام کا تھا۔ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] ربیع بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم
ﷺ کا ارشاد ہے: میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں، وہ خواہ کبھی بھی اتریں۔ [الدر المنشور للسیوطی:272/3:ضعیف] بخاری و مسلم میں ہے، آپ
ﷺ فرماتے ہیں: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ظاہر رہے گا۔ انہیں ان کی دشمنی کرنے والے کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔ [صحیح مسلم:1923] ایک اور روایت میں ہے کہ یہاں تک کہ اللہ کا امر آ جائے گا، وہ اسی پر رہیں گے۔ [صحیح مسلم:174]
ایک روایت میں ہے: [اس وقت] وہ شام میں ہوں گے۔ [صحیح بخاری:7460]