سورۃ الانفال (مالِ غنیمت) (آیت 17)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




8 الانفال(الأنفال)، آیت ۱۷

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 17 ١٧

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے (۱۷)

تفسیر
اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لیے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لیے فرماتا ہے کہ ” اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بیکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کر دیا “۔

جیسے فرمان ہے آیت ‏وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ آلِ عمران ۳:۱۲۳ ‏، ” اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی “ اور آیت میں ہے آیت

‏لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ

التوبہ ۹:۲۵ ‏، ” بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بیکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہو گئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ “

پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ البقرہ ۲:۲۴۹ ‏ یعنی ” بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “

پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ جو نبی کریم نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔

روئے، گڑگڑائے اور مناجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا: ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھر جائیں ساتھ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کر دو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہے تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔

پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ نبی کریم ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15740:ضعیف و منقطع] ‏

مسلمانوں نے ان کو قتل کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا اور قید کرلیا۔ کافروں کو یہ ہزیمت حضور کے معجزے کے سبب ہوئی۔ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور نے تین کنکر لئے تھے ایک سامنے پھینکا دو کنکر دشمن فوج کے سیدھی و بائیں طرف پھینکے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے جنگ بدر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏

ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کر دیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔

ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15839:مرسل و ضعیف] ‏ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15835:ضعیف] ‏ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔

یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ ” وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ “ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/13:مرسل و ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہو گیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔

ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے وَاللهُ اَعْلَمُ ۔

پھر فرماتا ہے وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ” تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کر دیا۔“

حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا امتحان ہم سے لیا ہے۔ «إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

” اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے؟ “

پھر فرماتا ہے ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّـهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ ” اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا “ اور یہی ہوا بھی۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔