سورۃ الانفطار (شکنا)

سورۃ الانفطار قرآن مجید کا ۸۲واں باب ہے، جو مکہ میں نازل ہوا۔ یہ ۱۹ آیات پر مشتمل ہے اور قیامت کے دن کے منظر، آسمانوں کے ٹوٹنے اور انسانوں کے اعمال پر قضاوت کرنے کو بیان کرتا ہے۔

سورۃ الإنفطار (پھٹنا)

اس نام سے بھی معروف ہے: إذا السماء انفطرت (جب آسمان پھٹ جائے), انفطرت (پھٹ گیا)

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ ٥ i

82:۵

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا (۵)

يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ٦ i

82:۶

اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا (۶)

الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ ٧ i

82:۷

(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا (۷)

يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ١٩ i

82:۱۹

جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا (۱۹)