سورۃ التوبہ (توبہ) (آیت 108)

نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔




9 التوبہ(التوبة)، آیت ۱۰۸

لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ 108 ١٠٨

تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے (۱۰۸)

تفسیر
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار

ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔

جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔

نبی کریم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔

چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔

جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی

لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

التوبہ ۹: ۱۰۷ ۱۰۸ ‏ تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل] ‏

سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا ۔

یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] ‏ وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔

[وَ قَوْلُہُ ] ‏ لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا نبی کریم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] ‏ رسول اللہ نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ وَاللهُ اَعْلَمُ

ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا التوبہ ۹:۱۰۸ ‏ آپ نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔

تو عرض کی یا رسول اللہ ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] ‏ امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ] ‏

ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ التوبہ ۹:۱۰۸ ‏ جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] ‏ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف] ‏ [ اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے ] ‏ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح] ‏

امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد ] ‏ روایت کی ہے کہ نبی کریم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم کے پاس آئے اور آپ سے تحقیق کی تو آپ نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح] ‏

امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] ‏ روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] ‏ پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ ! مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح] ‏

پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] ‏ روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن] ‏

ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] ‏ اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، وَاللهُ اَعْلَمُ ۔

متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔