نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (۲۷)
٨ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہِ شوال میں جنگ حنین ہوئی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموماً مکی حضرات مسلمان ہو چکے اور انہیں آپ آزاد بھی کر چکے تو آپ ﷺ کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ ﷺ سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نضری ہے۔
ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم، بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے بھی کچھ لوگ ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بن عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہے تو آپ ﷺ اپنے اس لشکر کو لے کر جو آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے۔ تقریباً دو ہزار تو مسلم مکی بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا۔ صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بےخبری میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا بےپناہ تیر اندازی کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ان کی طرف بڑھے۔آپ ﷺ اس وقت سفید خچر پر سوار تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ ﷺ با آواز بلند اپنے آپ کو پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو! کہاں چلے میری طرف آؤ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں، میں اولادِ عبدالمطلب میں سے ہوں۔
آپ ﷺ کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ رضی اللہ عنہم رہ گئے تھے۔ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ، سیدنا ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ وغیرہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں۔ پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو! اے سورۃ الالبقرہ⧉ کے حاملو! پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے لبیک لبیک کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ ﷺ کے آس پاس آ کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہو گیا۔جب کچھ جماعت آپ ﷺ کے اردگرد جمع ہو گئی آپ ﷺ نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری تعالیٰ جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما۔ پھر آپ ﷺ نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھیں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔
مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا۔ اور مسلمانوں کی باقی فوج نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے ان کفار کو قید کر کے نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈھیر کر دیا۔ مسند احمد میں ہے سیدنا عبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ ” میں اس معرکے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے۔ سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لئے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے خیمے میں پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا: ” نبی کریم ﷺ! ہوائیں ٹھنڈی ہو گئی ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ہاں ٹھیک ہے“ [آواز دی] ، بلال رضی اللہ عنہ! اس وقت بلال رضی اللہ عنہ ایک درخت کے سائے میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر لبیک و سعدیک و انا فداوک کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” میری سواری کسو۔“ اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی۔ جب کس چکے تو نبی کریم ﷺ سوار ہوئے ہم نے صف بندی کر لی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہو گئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے۔نبی کریم ﷺ نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی۔ اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔“ [مسند احمد:276/5:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ ﷺ کے پاس واپس پہنچ گئے آپ ﷺ نے اسی وقت حملہ کا حکم دے دیا۔ اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی۔ یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی اکرم ﷺ کو فے میں دلا دیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ ” اے ابو عمارہ! کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ ﷺ کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے“؟ آپ نے فرمایا: ” لیکن رسول اللہ ﷺ کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے تو انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو وقار اندازی کے ساتھ تیروں کی بارش برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ، رسول اللہ ﷺ کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا، لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ ﷺ کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے آپ کو چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتلا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔“ [مسند احمد:376/3:حسن] خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ ﷺ کو اللہ کی مدد پر ہے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا۔ اور آپ ﷺ کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابداً ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی اکرم ﷺ پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔
ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر میں ہم نے بھی انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فوراً بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر آۓ، ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی سفید چہرے والے کچھ لوگ ان کے اردگرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہو گئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہو گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3151] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں بھی اس لشکر میں تھا آپ ﷺ کے ساتھ صرف اسیّ [80] مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ تعالیٰ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔نبی کریم ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ ﷺ زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ نبی کریم ﷺ اونچے ہو جائیے اللہ آپ ﷺ کو اونچا ہی رکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو۔“ میں نے بھر دی۔ آپ ﷺ نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا: ” مہاجر و انصار کہاں ہیں“؟ میں نے کہا: ” یہیں ہیں۔“ فرمایا: ” انہیں آواز دو“ میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں تولے ہوئے لپک لپک کر آ گئے۔ اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔“ [مسند احمد:454/1:حسن]
بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ ” حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ ﷺ تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارنا یاد آگیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا؟ آؤ پیغمبر ﷺ کو قتل کر دوں۔ اس ارادے سے میں آپ ﷺ کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پایا۔ سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں۔ میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں، ادھر سے آیا تو دیکھا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں، میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں، اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں کاوا کاٹ کر پیچھے کی طرف آیا آپ ﷺ کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونپ کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا کہ ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑنا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا۔ اسی وقت نبی کریم ﷺ نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا: ” شیبہ میرے پاس آ۔ اے اللہ اس کا شیطان دور کر دے“، اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو واللہ! آپ ﷺ مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” شیبہ جا کافروں سے لڑ۔“ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] شیبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں؟
میں آپ ﷺ کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا جو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا: ” یا رسول اللہ ﷺ! میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” شیبہ وہ تو سواۓ کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ! شیبہ کو ہدایت کر، پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا۔ واللہ! آپ ﷺ کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ محبت آپ ﷺ کی میں اپنے دل میں پانے لگا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:145/5:ضعیف] سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” میں اس غزوے میں آپ ﷺ کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتر رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان کو گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ! ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔“ [دلائل النبوۃ للبیهقی:146/5:ضعیف] یزید بن عامر سوائ اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافرں کے ساتھ تھے بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں پر رعب و خوف کا کیا حال تھا؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے: ” بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آ رہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔“ [طبرانی کبیر:237،238/22:ضعیف] صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” مجھے رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں۔ [صحیح مسلم:523] الغرض کفار کو اللہ تعالیٰ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ ﷺ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ مکرمہ کے قریب جعرانہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔
جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کر لو یا تو قیدی یا مال“؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی، مرد عورت کی، بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ ﷺ نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا، اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ ﷺ نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہو جائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔مالک بن عوف نصری کو بھی آپ ﷺ نے سو اونٹ دیئے اور اس کو اس کی قوم کا سردار بنا دیا جیسے کہ وہ تھا۔ اس کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ ” میں نے تو محمد ﷺ جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا، دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ ﷺ کا ثانی نہیں، آپ ﷺ کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے تھے۔ یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ ﷺ بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ ﷺ دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔“
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔