نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے (۲۸)
باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں، پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔
بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہی۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔“ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ ” پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہو جائے گا ہمارے بازار بےرونق ہو جائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے۔“ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی و حمید فرماتا ہے کہ ” تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تعالیٰ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا۔ تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ تمہارا رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے، یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دے گا“،ان اہل کتاب سے جو اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول ﷺ کے اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں اور پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی کریم ﷺ پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی ﷺ پر بھی ضرور ایمان لاتے۔ ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل ﷺ کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لیے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین ﷺ سے کفر کرتے ہیں اس لیے ان سے بھی جہاد کرو۔
ان سے جہاد کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہو چکی تھی ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کر لی تھی اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہ حق دکھانے کا حکم ہوا، سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے ﷺ رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے اردگرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر کے واپس لوٹے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ ان شاءاللہ تعالیٰ بیان ہو گا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں۔ چنانچہ ہجر کے مجسیوں سے نبی کریم ﷺ نے جزیہ لیا تھا۔ [صحیح بخاری:3156] امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا رحمہ اللہ بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یا بت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کے بسط کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔ پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔“ [صحیح مسلم:2167]
یہی وجہ تھی جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے ایسی ہی شرطیں کی تھیں۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ہاتھ سے عہد نامہ لکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا کہ اہل شام کے فلاں فلاں شہری لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہ جب آپ کا لشکر ہم پر آئے ہم نے آپ سے اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے لیے امن طلب کی ہم ان شرطوں پر وہ امن حاصل کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نیا نہیں بنائیں گے۔ اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو مٹ چکے ہیں انہی درست نہیں کریں گے۔ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے راہ گزر اور مسافروں کے لیے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے۔ ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے نہ تلواریں لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے شراب فروشی نہیں کریں گے اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالیں رہیں گے صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔
اپنی مذہبی کتابیں مسلمانوں کی گزر گاہوں اور بازاروں میں ظاہر نہیں کریں گے گرجوں میں ناقوس بلند آواز سے نہیں بجائیں گے۔ نہ مسلمانوں کی موجودگی میں با آواز بلند اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں گے نہ اپنے مذہبی شعار کو راستوں پر کریں گے نہ اپنے مردوں پر اونچی آواز سے ہائے وائے کریں گے نہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے راستوں میں آگ لے کر جائیں گے۔ مسلمانوں کے حصے میں آئے ہوئے غلام ہم نہ لیں گے مسلمانوں کی خیر خواہی ضرور کرتے رہیں گے ان کے گھروں میں جھانکیں گے نہیں۔جب یہ عہد نامہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہیں شرائط پر ہمیں امن ملی ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہو جائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہو جائیں گے۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔