نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضا مندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے (۷۲)
فرماتے ہیں اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ [صحیح بخاری:6555]
یہ بھی معلوم رہے کہ تمام جنتوں میں خاص ایک اعلیٰ مقام ہے جس کا نام وسیلہ ہے کیونکہ وہ عرش سے بالکل ہی قریب ہے یہ جگہ ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی۔ آپ ﷺ فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: ” جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔“ آپ ﷺ فرماتے ہیں مؤذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لیے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہو گی [مسند احمد:7588:صحیح] جو شخص میرے لیے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت بروز قیامت حلال ہو گئی۔ [صحیح مسلم:384] فرماتے ہیں میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ [طبرانی:1/333:صحیح] صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک دن آپ ﷺ سے پوچھا کہ ” یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں جنت کی باتیں سنائیے ان کی بنا کس چیز کی ہے“؟ فرمایا: ” سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے اس کے کنکر لوءلوء اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہو گا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔“ [مسند احمد:304/2:صحیح] فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا: ” نبی کریم ﷺ! یہ بالاخانے کن کے لیے ہیں“؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” جو اچھا کلام کرے، کھانا کھلائے، روزے رکھے، اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔“ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:صحیح]
فرماتے ہیں کوئی ہے جو جنت کا شائق اور اس کے لیے محنت کرنے والا ہو؟ واللہ! جنت کی کوئی چار دیواری محدود کرنے والا نہیں وہ تو ایک چمکتا ہوا بقعہ نور ہے اور مہکتا ہوا گلستان ہے اور بلند و بالا پاکیزہ محلات ہیں اور جاری و ساری لہریں مارنے والی نہریں ہیں اور گدرائے ہوئے اور پکے میوؤں کے گچھے ہیں اور جوش جمال خوبصورت پاک سیرت حوریں ہیں اور بیش قیمت رنگین جوڑے ہیں، مقام ہے ہمیشگی کا، گھر ہے سلامتی کا، میوے ہیں لدھے پھدے، سبزہ ہے پھیلا ہوا، کشادگی اور راحت ہے، امن اور چین ہے، نعمت اور رحمت ہے، عالیشان خوش منظر کوشک اور حویلیاں ہیں۔ یہ سن کر لوگ بول اٹھے کہ ” یا رسول اللہ ﷺ! ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ” ان شاءاللہ کہو۔“ پس لوگوں نے ان شاءاللہ کہا۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضا مندی ہے۔ فرماتے ہں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہے گا اے اہل جنت! وہ کہیں گے لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک ۔ پوچھے گا ” کہو تم خوش ہو گئے“؟ وہ جواب دیں گے کہ ” خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار! ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہو گا۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں۔“ وہ کہیں گے ” اے اللہ! اس سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے“؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” سنو! میں نے اپنی رضا مندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549] نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیئے تو دوں۔ وہ کہیں گے ” اے اللہ! جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی“، اللہ فرمائے گا ” وہ میری رضا مندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔“ [مستدرک حاکم:82/1:صحیح] امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔