نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے (۹)
اس طرح سمجھا چکنے کے بعد اب اللہ ڈرا رہا ہے کہ اگر اس نے مخالفت، سرکشی اور ایذاء دہی نہ چھوڑی تو ہم بھی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے جو اقوال میں جھوٹا اور افعال میں بدکار ہے یہ اپنے مدد گاروں، ہم نشینوں قرابت داروں اور کنبہ قبیلے والوں کو بلا لے۔ دیکھیں تو کون اس کی مدافعت کر سکتا ہے۔ ہم بھی اپنے عذاب کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں پھر ہر ایک کو کھل جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ اگر میں محمد کو کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو گردن سے دبوچوں گا نبی کریم ﷺ کو بھی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ ایسا کرے گا تو اللہ کے فرشتے پکڑ لیں گے ۔ [صحیح بخاری:4958]
دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ مقام ابراہیم کے پاس بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ ملعون آیا اور کہنے لگا کہ میں نے تجھے منع کر دیا پھر بھی تو باز نہیں آیا اگر اب میں نے تجھے کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو سخت سزا دوں گا وغیرہ۔ نبی کریم ﷺ نے سختی سے جواب دیا اس کی بات کو ٹھکرا دیا اور اچھی طرح ڈانٹ دیا، اس پر وہ کہنے لگا کہ تو مجھے ڈانٹتا ہے اللہ کی قسم میری ایک آواز پر یہ ساری وادی آدمیوں سے بھر جائے گی اس پر یہ آیت اتری کہ اچھا تو اپنے حامیوں کو بلا ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر وہ اپنے والوں کو پکارتا تو اسی وقت عذاب کے فرشتے اسے لپک لیتے۔ [مسند احمد:256/1:صحیح]
مسند احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اگر وہ ایسا کرتا تو اسی وقت لوگوں کے دیکھتے ہوئے عذاب کے فرشتے اسے پکڑ لیتے اور اسی طرح جبکہ یہودیوں سے قرآن نے کہا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو موت مانگو اگر وہ اسے قبول کر لیتے اور موت طلب کرتے تو سارے کے سارے مر جاتے اور جہنم میں اپنی جگہ دیکھ لیتے اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر یہ مباہلہ کے لیے نکلتے تو لوٹ کر نہ اپنا مال پاتے، نہ اپنے بال بچوں کو پاتے۔“ [مسند احمد:248/1:صحیح] ابن جریر میں ہے کہ ابوجہل نے کہا اگر میں آپ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتا ہوا دیکھ لوں گا تو جان سے مار ڈالوں گا اس پر یہ سورت اتری۔ حضور علیہ السلام تشریف لے گئے ابوجہل موجود تھا اور آپ ﷺ نے وہیں نماز ادا کی تو لوگوں نے اس بدبخت سے کہا کہ کیوں بیٹھا رہا؟ اس نے کہا: کیا بتاؤں کون میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر ذرا بھی ہلتا جلتا تو لوگوں کے دیکھتے ہوئے فرشتے اسے ہلاک کر ڈالتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37688] ۔ ابن جریر کی اور روایت میں ہے کہ ابوجہل نے پوچھا کہ کیا محمد تمہارے سامنے سجدہ کرتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اگر میرے سامنے اس نے یہ کیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کے منہ کو مٹی میں ملا دوں گا ادھر اس نے یہ کہا ادھر رسول اللہ ﷺ و بارک علیہ نے نماز شروع کی جب آپ ﷺ سجدے میں گئے تو یہ آگے بڑھا لیکن ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو بچاتا ہوا پچھلے پیروں نہایت بدحواسی سے پیچھے ہٹا۔ لوگوں نے کہا کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کی خندق ہے اور گھبراہٹ کی خوفناک چیزیں ہیں اور فرشتوں کے پر ہیں وغیرہ۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ” اگر یہ ذرا قریب آ جاتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو الگ الگ کر دیتے“ ۔پس یہ آیتیں كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ العلق ۹۶:۶ ⧉ سے آخر تک سورت تک نازل ہوئیں۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ کلام سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا نہیں؟ یہ حدیث مسند، مسلم، نسائی ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2797]
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔