نیچے دیے گئے تلاش کے ٹول کو استعمال کریں تاکہ کسی مخصوص سورت سے ایک یا زیادہ آیات منتخب کر کے اپنی پسند کی زبان میں ان کا ترجمہ دیکھ سکیں۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں (۷)
اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔ پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ” میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ” وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن] سورۃ لم یکن کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
متبادل کے طور پر، آپ نیچے دی گئی اسمارٹ تلاش کی سہولت استعمال کر سکتے ہیں۔