” اے نبی کریم ﷺ تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا “۔
ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ ﷺ بوڑھے کیسے ہو گئے؟ فرمایا: مجھے سورۃ ھود⧉ ، سورۃ الواقعہ⧉ ، سورۃ عم، اور سورۃ کورت نے بوڑھا کر دیا ۔ [مسند ابویعلیٰ107/1:سند منقطع:حدیث صحیح] ۔ ترمذی کی اس حدیث میں سورۃ ھود⧉ ، سورۃ الواقعہ⧉ ، سورۂ والمرسلات، سورۃ النباء اور سورۃ الشمس⧉ کورت کا ذکر ہے [سنن ترمذي3297،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۔ ایک روایت میں ہے، سورۃ ھود⧉ اور اس جیسی اور سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ۔ طبرانی میں ہے، مجھے سورۃ ھود⧉ نے اور اس جیسی سورتوں مثلاً سورۃ الواقعہ⧉ ، الحاقہ، اذالشمس کورت نے بوڑھا کر دیا ہے [طبرانی کبیر:5804:سخت ضعیف] ۔ایک روایت میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ کا صرف دو سورتوں کا ذکر کرنا مروی ہے۔ سورۂ ھود اور سورۂ واقعہ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10091:سخت ضعیف]