یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ
إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
ہود ۱۱: ۵۴⧉ ۵۵⧉ ۵۶⧉ ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ” اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔“ تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا المائدہ ۵:۴۸ ⧉ ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ النمل ۲۷:۹۱ ⧉ ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ البقرہ ۲: ۱۳۱⧉ ۱۳۲⧉ ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔ اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ البقرہ ۲:۱۳۲ ⧉ ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔ یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ یوسف ۱۲:۱۰۱ ⧉ ” اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا “۔موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ یونس ۱۰:۸۴ ⧉ ” اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو “۔
آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ” تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔“ بلقیس کہتی ہیں رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ النمل ۲۷:۴۴ ⧉ ” میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں “۔ قرآن فرماتا ہے ہے کہ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا المائدہ ۵:۴۴ ⧉ ” تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں “۔ وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ المائدہ ۵:۱۱۱ ⧉ ” حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں “۔ خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ الانعام ۶: ۱۶۲⧉ ۱۶۳⧉ ” میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں “۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ” قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا “۔