ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے یوسف علیہ السلام کو بہلایا پھسلایا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاشاللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔
تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا یہ سب اس لیے تھا کہ میری امانت درای کا یقین ہو جائے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام سے فرمایا وہ دن بھی یاد ہے؟ کہ آپ علیہ السلام نے کچھ ارادہ کر لیا تھا؟ تب آپ نے فرمایا میں اپنے نفس کی براءت تو نہیں کر رہا؟ بیشک نفس برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/7] الغرض ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کلام یوسف علیہ السلام کا ہے۔ لیکن پہلا قول یعنی اس کلام کا عزیز کی موت کا کلام ہونا ہی زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اس لیے کہ اوپر سے انہی کا کلام چلا آ رہا ہے جو بادشاہ کے سامنے سب کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ اس وقت تو یوسف علیہ السلام وہاں موجود ہی نہ تھے۔ اس تمام قصے کے کھل جانے کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بلوایا۔