Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الرعد — آیت 12 (اردو) — ویڈیو

الرعد • آیت نمبر 12 (کل 43 آیتیں) • اردو


هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ 12
ترجمہ:
اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے الرعد ۱۳:۱۲
تفسیر:
بجلی کر گرج بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آ جاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔

ایک اور جگہ ہے کہ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ الاسراء ۱۷:۴۴ ‏ ” ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے “۔

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1665:صحیح] ‏ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔

سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ نبی کریم گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلنَا بِغَضَبِك وَلَا تُهْلِكنَا بِعَذَابِك وَعَافِنَا قَبْل ذَلِكَ ۔ [سنن ترمذي:3450،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

اور روایت میں یہ دعا ہے سُبْحَان مَنْ يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گرج سن کر پڑھتے سُبْحَان مَنْ سَبَّحْت لَهُ ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا سُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے سُبْحَان الَّذِي يُسَبِّح الرَّعْد بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَة مِنْ خِيفَته اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لیے بہت تنزیر و عبرت ہے۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارا رب العزت فرماتا ہے ” اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا “ ۔ [مسند احمد:359/2:ضعیف]

طبرانی میں ہے آپ فرماتے ہیں گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا ۔ [طبرانی کبیر:11371:ضعیف] ‏ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لیے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔

مسند کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر ۔ [مسند احمد:64/3:ضعیف] ‏

ابو یعلیٰ راوی ہیں نبی کریم رسول اللہ نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ ؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ یا پیتل کا؟ قاصد واپس آیا اور نبی کریم سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئیے میں نے تو آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ اسے نہ بلوائیں آپ نے فرمایا: دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو ، اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر نبی کریم سے عرض کیا۔ آپ نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:125/13:حسن] ‏

ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہو گیا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20266/16:مرسل] ‏

قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور نبی کریم کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہو گیا اور یہ آیت اتری ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:20271:حسن] ‏

اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے، یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں نبی کریم کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ نے انہیں اس سے مایوس کر دیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا۔ آپ نے فرمایا: تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا ۔

پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھہرے رہے کہ موقعہ پا کر نبی کریم کو غفلت میں قتل کر دیں چنانچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آ گیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔

اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے عرب کو آپ کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہو گیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔

اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال ۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ امر خلافت نہ تیرے لیے ہے نہ تیری قوم کے لیے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا ۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کر دیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ نے فرمایا: نہیں ۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔

حضور نے فرمایا: اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا ۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ کا کام تمام کردے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔

نبی کریم کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا۔

راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہو گیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھہرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہو گیا۔ پس ان کے بارے میں یہ آیتیں

اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ

الرعد ۱۳: ۸ ۹ ۱۰ ۱۱ ‏ نازل ہوئیں ان سے نبی کریم کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے۔ [طبرانی کبیر:10760:ضعیف] ‏

اور فرمایا ہے کہ ” یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت وتوحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے “۔

پس یہ آیت مثل آیت وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ النمل ۲۷: ۵۰ ۵۱ ‏ کے ہے یعنی ” انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہو سکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کر دیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے “۔

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الرعد • آیت 11 اگلی الرعد • آیت 13