ایک موازنہ ارشاد ہوتا ہے کہ
” ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ ﷺ کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ ﷺ کی سچائی کا قائل ہو “۔ اور آیت میں ہے
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا الانعام ۶:۱۱۵ ⧉ ” اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں “۔ ” اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے “۔
جیسے فرمان ہے کہ لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ الحشر ۵۹:۲۰ ⧉ ” دوزخی اور جنتی برابر نہیں، جنتی خوش نصیب ہیں “، یہی فرمان یہاں ہے کہ ” یہ دونوں برابر نہیں “۔ بات یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھداروں کی ہی ہوتی ہے۔