Landscape MP4 Vertical MP4

سورت الرعد — آیت 6 (اردو) — ویڈیو

الرعد • آیت نمبر 6 (کل 43 آیتیں) • اردو


وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ 6
ترجمہ:
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے الرعد ۱۳:۶
تفسیر:
منکرین قیامت یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ ” اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے؟“ کہتے تھے کہ ” اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا؟“

اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ ” فرشتے حق کے اور فیصلے کے ساتھ ہی آیا کرتے ہیں، جب وہ وقت آئے گا اس وقت ایمان لانے یا توبہ کرنے یا نیک عمل کرنے کی فرصت و مہلت نہیں ملے گی “۔

اسی طرح اور آیت میں ہے

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ

العنكبوت ۲۹: ۵۳ ۵۴ ‏۔ اور جگہ ہے سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ المعارج ۷۰:۱ ‏ اور آیت میں ہے کہ يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ الشوریٰ ۴۲:۱۸ ‏ ” بے ایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایماندار اس سے خوف کھا رہے ہیں اور اسے بر حق جان رہے ہیں “۔

اسی طرح اور آیت میں فرمان ہے کہ وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ الانفال ۸:۳۲ ‏ ” وہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور المناک عذاب نازل فرما “۔

مطلب یہ ہے کہ اپنے کفر وانکار کی وجہ سے اللہ کے عذاب کا آنا محال جان کر اس قدر نڈر اور بے خوف ہو گئے تھے کہ عذاب کے اترنے کی آرزو اور طلب کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ ” ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کی مثالیں ان کے سامنے ہیں کہ کس طرح وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے۔ کہہ دو کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حلم و کرم ہے کہ گناہ دیکھتا ہے اور فوراً نہیں پکڑتا ورنہ روئے زمین پر کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑے، دن رات خطائیں دیکھتا ہے اور درگزر فرماتا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ عذاب پر قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے عذاب بھی بڑے خطرناک نہایت سخت اور بہت درد دکھ دینے والے ہیں “۔

چنانچہ فرمان ہے نْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ الانعام ۶:۱۴۷ ‏ ” اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ تمہارا رب وسیع رحمتوں والا ہے لیکن اس کے آئے ہوئے عذاب گنہگاروں پر سے نہیں ہٹائے جا سکتے “۔

اور فرمان ہے کہ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ الاعراف ۷:۱۶۷ ‏ ” تیرا پروردگار جلد عذاب کرنے والا، بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے “۔

اور آیت میں ہے نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ الحجر ۱۵: ۴۹ ۵۰ ‏ ” میرے بندوں کو خبر کر دے کہ میں غفور رحیم ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک ہیں “۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سے آیتیں ہیں جن میں امید و بیم، خوف و لالچ ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ نے فرمایا: ” اگر اللہ تعالیٰ کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بے پرواہی سے ظلم و زیادتی میں مشغول ہو جاتا“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:12145/7:ضعیف] ‏

ابن عساکر میں ہے کہ ” حسن بن عثمان ابو حسان راوی رحمہ اللہ نے خواب میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا دیدار کیا دیکھا کہ نبی کریم اللہ کے سامنے کھڑے اپنے ایک امتی کی شفاعت کر رہے ہیں جس پر فرمان باری ہوا کہ کیا تجھے اتنا کافی نہیں کہ میں نے سورۃ الرعد میں تجھ پر وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ الرعد ۱۳:۶ ‏ نازل فرمائی ہے۔‏“ ابوحسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔‏“

X Facebook Minutemailer Stellar WhatsApp Reddit
مکمل سورت کی ویڈیو دیکھیں
پچھلی الرعد • آیت 5 اگلی الرعد • آیت 7