آل لوط کافر جب تنگ ہوئے، کوئی حجت باقی نہ رہی تو نبیوں کو دھمکانے لگے اور دیس نکالنے سے ڈرانے لگے۔ قوم شعیب نے بھی اپنے نبی اور مومنوں سے یہی کہا تھا کہ
لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا الاعراف ۷:۸۸ ⧉ ” ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے “۔ لوطیوں نے بھی یہی کہا تھا کہ
أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ النمل ۲۷:۵۵ ⧉ ” آل لوط کو اپنے شہر سے نکال دو، وہ اگرچہ مکر کرتے تھے لیکن اللہ بھی ان کے داؤ میں تھا “۔ اور آیت میں ہے کہ
وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا الاسراء ۱۷:۷۶ ⧉ ” یہ تو آپ
ﷺ کے قدم اس سر زمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ
ﷺ کو اس سے نکال دیں۔ پھر یہ بھی آپ
ﷺ کے بعد بہت ہی کم ٹھہر پاتے “۔ اپنے نبی کریم
ﷺ کو سلامتی کے ساتھ مکے سے لے گیا مدینے والوں کو آپ
ﷺ کا انصار و مددگار بنا دیا وہ آپ
ﷺ کے لشکر میں شامل ہو کر آپ
ﷺ کے جھنڈے تلے کافروں سے لڑے اور بتدریج اللہ تعالیٰ نے آپ
ﷺ کو ترقیاں دیں یہاں تک کہ بالآخر آپ
ﷺ نے مکہ بھی فتح کر لیا۔ اور آیت میں ہے
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّـهُ وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ الانفال ۸:۳۰ ⧉
” اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ ﷺ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ ﷺ کو قید کر لیں، یا آپ ﷺ کو قتل کر ڈالیں یا آپ ﷺ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر والا اللہ ہے “۔ اب تو دشمنان دین کے منصوبے خاک میں مل گئے ان کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ان کی آرزویں پامال ہو گئیں۔ اللہ کا دین لوگوں کے دلوں میں مضبوط ہو گیا، جماعتوں کی جماعتیں دین میں داخل ہونے لگیں، تمام روئے زمین کے ادیان پر دین اسلام چھا گیا، کلمہ حق بلند و بالا ہو گیا اور تھوڑے سے زمانے میں مشرق سے مغرب تک اشاعت اسلام ہو گئی
فالْحَمْدُ لِلَّـه ۔
یہاں فرمان ہے کہ ” ادھر کفار نے نبیوں کو دھمکایا ادھر اللہ نے ان سے سچا وعدہ فرمایا کہ یہی ہلاک ہوں گے اور زمین کے مالک تم بنو گے “۔